| بیدمؔ شاہ وارثی |
| مطلوبِ آفرینشِ ارض و سما علیؑ | | مقصو دِ ھَلْ اَتیٰ ہیں شہِؑ لا فتیٰ علیؑ |
| حلاّلِ مشکلات ہیں مشکل کشاؑ علیؑ | | بندوں کو اُن کے فکر و مصائب کا خوف کیا |
| مولاؑ مرے امامؑ مرے پیشوا علیؑ | | بندہ ہوں میں اُنہی کا انہی کا غلام ہوں |
| پیدا کوئی ہوا ہی نہیں دوسرا علیؑ | | جس طرح ایک ذاتِ محمدؐ ہے بے مثال |
| بیدمؔ یہی تو پانچ ہیں مقصود کائنات |
| خیرالنساؐ، حسینؑ و حسنؑ ، مصطفیؐ ، علیؑ |
 |
| پیامؔ اعظمی |
| یونہی علیؑ ہیں دینِ پیمبرؐ کی آبرو | | جس طرح رُوح ہوتی ہے پیکر کی آبرو |
| ہے تیرے دم سے مسجد و منبر کی آبرو | | اے دین کے وقار پیمبرؐ کی آبرو |
| حیدرؑ سے خود ہے خانۂ داور کی آبرو | | کم تھی کہاں جو بڑھ گئی حیدرؑ کی آبرو |
| عزت صدف کو دیتی ہے گوہر کو آبرو | | کعبہ ہوا علیؑ کی ولادت سے محترم |
| اِس گھر کی آبرو سے ہے اُس گھر کی آبرو | | کعبے سے کم نہیں شرفِ خانۂ رسولؐ |
| نظروں سے گر گئی زر و گوہر کی آبرو | | خاکِ درِ علیؑ سے کیا جب مقابلہ |
| جھوٹی تھی کتنی مَرحب و عنتر کی آبرو | | تیغ علیؑ اٹھی تو بھرم کھُل کے رہ گیا |
| ٹوٹا تو بڑھ گئی درِ خیبر کی آبرو | | ایماں کے کارواں کی گزرگاہ بن گیا |
| فوجوں کا دَبدبہ ہے نہ لشکر کی آبرو | | بدلا ہے یوں علیؑ نے نگاہوں کا زاویہ |
| نیزوں کا ہے وقار نہ خنجر کی آبرو | | توڑا ترے حسینؑ نے ہر ظلم کا غرور |
| داراؔ کی شان ہے نہ سکندرؔ کی آبرو | | میں ہوں فقیرِ آلؑ مرے سامنے پیامؔ |
 |
| بولی زمیں کہ میں بھی نہیں کم ُحضور سے | | دیکھا جو آسماں نے زمیں کو ُغرور سے |
| غلمان سے ، ملک سے ، فرشتوں سے حور سے | | بولا فلک کہ ہے مرا دامن بھرا ہوا |
| خیرات آکے لیتے ہیں فخر و غرور سے | | بولی زمیں یہ سب درِ آلؑ رسولؐ پر |
| تابندہ ہیں جو فضلِ خدائے غفور سے | | بولا فلک کہ چاند ستارے ہیں میرے پاس |
| روشن ہیں یہ تو آلؑ پیمبرؐ کے ُنور سے | | بولی زمیں کہ چاند ستاروں پہ کیوں گھمنڈ |
| میرے مکیں جو کردیں اشارہ بھی دُور سے | | ٹکڑے ہو چاند ، ڈوب کے سورج پلٹ پڑے |
| کوثر چھلک رہا ہے شرابِ طہور سے | | کہنے لگا فلک مرے دامن کی شان دیکھ |
| شک ہو تو پوچھ معنیٔ کوثر حضورؐ سے | | بولی زمیں کہ اصل ہیں کوثر کی فاطمہؑ |
| اونچا ہے نخلِ طوبیٰ ترے نخلِ طور سے | | بولا فلک کہ کتنا کرے گی مقابلہ |
| چھوٹا ہے پھر بھی باغِ علیؑ کے کھجور سے | | بولی زمیں کہ مانا ترا طوبیٰ ہے بلند |
| نسبت اسے قریب سے ، ہے اس کو دُور سے | | بولا فلک کہ کعبے میں اور عرش میں ہے فرق |
| ٴٴکعبے میں نصف نور ملا نصف نور سےٴٴ | | بولی زمین عرشِ بریں پر ہوا جُدا |
 |
| مجھ سے کہا کہ کب یہ سخن وَر کی بات ہے | | اک روز ایک صاحبِ زُلفِ دراز نے |
| بس فاطمہؑ کا ذکر ہے حیدرؑ کی بات ہے | | آتا نہیں ہے ذکرِ رسولؐ خدا تمہیں |
| کہنے لگے کہ ہاںٝ یہی جوہر کی بات ہے | | میں نہ کہا کہ ذکرِ رسولِ خدا کروں؟ |
| بولے ہٹائو اس میں تو حیدرؑ کی بات ہے | | میں نے کیا جو دعوتِ اوّل کا تذکرہ |
| خندق کا ذکر ہے کہیں خیبر کی بات ہے | | میں نے کہا ، جہادِ پیمبرؐ کروں بیاں |
| اس میں تو صاف ضیغمِ دَاوَر کی بات ہے | | کہنے لگے کہ اور کوئی تذکرہ کرو |
| بولے کہ گھر میں رہنے دو یہ گھر کی بات ہے | | میں نے سُنایا آیۂ تطہیر کا نزول |
| یہ کہہ کے یہ تو خانۂ داور کی بات ہے | | میں نے نبیؐ کی بُت شکنی کا کیا جو ذکر |
| پائے علیؑ و دوشِ پیمبرؐ کی بات ہے | | کہنے لگے کہ دُکھتی ہوئی رگ نہ چھیڑیئے |
| بولے کہ یہ رسولؐ کے بستر کی بات ہے | | میں نے سُنایا جب شبِ ہجرت کا واقعہ |
| بولے کہ پھر غدیر کے منبر کی بات ہے | | میں نے نبیؐ کے آخری حج کا کیا جو ذکر |
| احمدؐ کی بات بات میں حیدرؑ کی بات ہے | | میں نے کہا ذکرِ نبیؐ کس طرح کروں؟ |
| میں نے کہا کہ یہ تو مقدر کی بات ہے | | پوچھا کہ ذکر اوروں کا آتا نہیں ہے کیوں؟ |
 |
| اور کشتی ڈوب جائے ناخدا کے سامنے | | وقتِ آخر بیٹھ جائیں خود وہ آکے سامنے |
| مشکلوٝ آئو چلو مشکل کشا کے سامنے | | اب جہاں میں کر نہیں سکتا ہے کوئی فیصلہ |
| بند ہیں قرآں کے لب آل عباؑ کے سامنے | | کون دے دادِ سخن جب بولتی ہوں آیتیں |
| جس کو مولاؑ کہہ چکا ہوں مصطفیؐ کے سامنے | | اس کے لختِ دل کا ہو انکار لوگوٝ کس طرح |
| اب نہ کہنا یہ کسی حق آشنا کے سامنے | | ایک انساں اتنے دن تک کیسے زندہ رہ گیا |
| کیسے آئے ابنِ شاہِؑ کربلا کے سامنے | | کربلا کے بعد ہمت موت کی پڑتی نہیں |
| کیسے آئے موت زہراؑ کی دعا کے سامنے | | راستہ روکے کھڑی ہے آرزوئے فاطمہؑ |
| جانے وہ کیا لے کے جائیں گے خدا کے سامنے | | چند آنسو بھی نہیں ہیں جن کے دامن میں پیامؔ |
 |
| غلام اُن کا ہوں ہر اختیار ہاتھ میں ہے | | خزاں ہے قبضے میں فصل بہار ہاتھ میں ہے |
| تو سمجھو رحمتِ پروردگار ہاتھ میں ہے | | جو دامنِ شہِؑ دُلدل سوار ہاتھ میں ہے |
| یہ میرا ہاتھ کسی ذمہ دار ہاتھ میں ہے | | مرے قدم کو زمانہ ہلا نہیں سکتا |
| کہ آنسوئوں کا دُرِ شاہوار ہاتھ میں ہے | | ہمیں غریب نہ سمجھو خرید لیں گے جناں |
| رسَن ہے جیب میں پھولوں کا ہار ہاتھ میں ہے | | زمانہ آیا ہے اظہارِ دوستی کے لئے |
| زہے نصیب کہ ہر کاروبار ہاتھ میں ہے | | جنابِ شیخ کی مسجد بھی بادہ خانہ بھی |
| جنوں پکارا کہ پھینکو غبار ہاتھ میں ہے | | کہا خرد نے کہ لعل و گہر ہیں مٹھّی میں |
| خدا کا دین ترے ذمہ دار ہاتھ میں ہے | | نبیؐ کی لخت جگر ، بعدِ مرسلِ اعظم |
| کہ عزت چمنِ روزگار ہاتھ میں ہے | | خدا کے دین کی نبضوں پہ انگلیاں ہیں تری |
| مدارِ گردشِ لیل و نہار ہاتھ میں ہے | | یہ چوبِ آسیہ بی بی کی مٹھّیوں میں نہیں |
| جبھی تو قوتِ پروردگار ہاتھ میں ہے | | علیؑ نے کھائی زہراؑ ے ہاتھ کی روٹی |
| بس اب تو رحمتِ پروردگار ہاتھ میں ہے | | نبیؐ نے گود میں بیٹی کو لے کے دی یہ صدا |
| یہ آبلہ نہیں حق کا وقار ہاتھ میں ہے | | ہتھیلیوں میں ہے سورج نبیؐ کی عظمت کا |
| خدا کے شیر ہیں اور ذوالفقار ہاتھ میں ہے | | یہ سوچ کر نہ دکھایا علیؑ کو زخم اپنا |
| پیامؔ دشمن زہرا کو یہ خبر دے دو |
| مرا قلم مرے مدحت گزار ہاتھ میں ہے |
 |
| تابشؔ دہلوی |
| یوں تو ہے اک خطۂ صحرا نہادہ کربلا | | حق کی منزل کربلا ہے حق کا جادہ کربلا |
| ہے حنین و بدر و خیبر کا اعادہ کربلا | | اک تسلسل ہے حق و باطل کا شبیرؑ و یزید |
| کتنی رنگیں کربلا ہے کتنی سادہ کربلا | | سوچئے تو ایک مشہد دیکھئے تو ایک دشت |
| اپنی منزل، راستہ مقصد، ارادہ کربلا | | سارے جذبے منسلک بس ایک ہی وحدت میں ہیں |
| گام گام ابنِ علیؑ ہیں، جادہ جادہ کربلا | | آج بھی انسانیت کی حق نمائی کے لئے |
| کتنی لا محدود ہے کتنی کشادہ کربلا | | معرکے اِس کے حق و باطل کے سارے معرکے |
| سَر کے بل جائیں مدینہ پا پیادہ کربلا | | زندگی میں کاش تابشؔ وہ بھی دن آئے کہ ہم |
 |
| جہادِ حق میں جو آزارِ جاں اُٹھاتے ہیں | | وہی تو فتح و ظفر کے نشاں اُٹھاتے ہیں |
| غبار اگرچہ بہت کارواں اٹھاتے ہیں | | نشانِ راہ جو روشن ہیں چھپ نہیں سکتے |
| عذابِ جاں پئے اِظہار جاں اٹھاتے ہیں | | یہی شناخت ہے اُن کی کہ مردِ حق شیوہ |
| اب اِس صدا کو سرِ لامکاں اٹھاتے ہیں | | مکاں میں گونجتا ہے نعرۂ حسینؑ حسینؑ |
| اِسی کی خاک سے یہ کہکشاں اٹھاتے ہیں | | ہیں کربلا کی زمیں ہی سے آسماں روشن |
| زمیں پہ رکھ کے جبیں آسماں اٹھاتے ہیں | | امام و مقتدی ایسے کہ سجدہ ریزی میں |
| کبھی قدم تو کبھی بیڑیاں اٹھاتے ہیں | | کڑے ہیں کوس اسیروں پہ شاہؑ کے ،تابشؔ |
 |
| ہم کو ان آنکھوں میں پانی چاہیے | | پیاس پیاسوں کی بجھانی چاہیے |
| ہر جگہ اکبرؑ کو پانی چاہیے | | خیمہ گہ ہو یا مصافِ کربلا |
| عیدِ ماتم بھی منانی چاہیے | | عیدِ قرباں جو مناتے ہیں اُنھیں |
| کربلا کی پاسبانی چاہیے | | اے عزاداروٝ ذرا دل پر نگاہ |
| کس کو عمرِ جاودانی چاہیے | | ہاں پکارے جارہی ہے کربلا |
| ایک بھائی یارِ جانی چاہیے | | جب وفا کا امتحاں درپیش ہو |
| چشمِ تر پانی ہی پانی چاہیے | | تازگیٔ نخلِ ماتم کے لئے |
| مرنے والوں کو نشانی چاہیے | | اے محرّم زخمِ جاں درکار ہے |
| تابشؔ اب سارا بیان کربلا |
| دیدۂ تر کی زبانی چاہیے |
 |
| تاثیرؔ نقوی |
| منزل نہاں ہے اُس کی جیسے رگِ گلو میں | | یوں تیر آرہا ہے اصغرؑ کی جستجو میں |
| عباسؑ بڑھ رہے ہیں پانی کی جستجو میں | | ہے تہلکہ سا برپا اک لشکرِ عدو میں |
| پہروں سے مضطرب ہیں موجیں اس آرزو میں | | پہنچا دے میرے مالک خیموں میں شاہِ دیں کے |
| ہنس ہنس کے جان دینا شامل ہے ان کی خو میں | | بولی اَجل یہ بڑھ کر جب مسکرائے اصغرؑ |
| طوفان وہ نہاں ہے ہر قطرۂ لہو میں | | برسے گا خونِ حسرت کالی گھٹا سے برسوں |
| پیوست ہو گیا یوں ناوک رگِ گلو میں | | باقی رہا نہ امکاں اصغرؑ کی زندگی کا |
| جو جنگ کر رہا ہو مرنے کی آرزو میں | | تیرِ مږہ سے اس کے خود موت کانپتی ہے |
| کیا کیا نہ کہہ گیا تو خاموش گفتگو میں | | اے مسکرانے والے دستِ شہِؑ ُہدا پر |
| پروانے جیسے آئیں مرنے کی آرزو میں | | انصارِ شاہِؑ والا یوں گردِ شاہِؑ دیں تھے |
| تاثیرؔ نارِ دوزخ اُس پر حرام ہوگی |
| شبیرؑ کی محبت شامل ہے جس کی خو میں |
 |
| حفیظ تائبؔ |
| زیبا ہے لقب تجھ کو امامِؑ الشہدا کا | | چرچا ہے جہاں میں تری تسلیم و رضا کا |
| رخ پھیر دیا جس نے زمانے کی ہوا کا | | نازِ بشریت ہے ترا سجدۂ آخر |
| تو باب نیا کھول گیا صدق و صفا کا | | نذرانۂ جاں پیش کیا دین کی خاطر |
| ہر عصر میں جلوہ ہے ترے رنگِ قبا کا | | ہر عہد میں خوشبو ہے تری موجِ نفس کی |
| خوں تیری رگوں میں تھا رواں شیرِ خدا کا | | حق گوئی و ثابت قدمی تیری مثالی |
| جاں دنیا تھا گو شیوہ سدا اہلِ وفا کا | | دنیا میں جدا ہے ترا اندازِ شہادت |
| اترا ہوا کیوں چہرہ تھا کوفے کی فضا کا | | جس شام کئی چاند تھے کربل کی زمیں پر |
| کیا کہنا ہے تیرے لب قرآن سرا کا | | کیا بات ترے فرقِ شفق رنگ کی مولا |
 |
| حق آشنا و شہادت مآب و رحمت زاد | | حسینؑ ابن علیؑ ماہِ مطلعِ انوار |
| چمن طراز و صبا مږدہ و بہار ایجاد | | حسینؑ مشہدِ تسلیم کا جلال و جمال |
| امامِؑ عصر ، سفیرِ بقا ، امیرِ معاد | | حسینؑ حریت آموز و زندگی افروز |
| حسینؑ ابن علیؑ ماہ رو ، گلاب نہاد | | حسینؑ ابن علیؑ سروِ خو ، سپہرِ وقار |
| وہ جس کی تیغ نے توڑا طلسمِ استبداد | | حسینؑ سیّدِ شباّنِ جنتِ فردوس |
| وہ برگِ صبر ، وہ بارِ رضا ، وہ نخلِ مراد | | وہ جس کے غم سے عبارت بہارِ فکر و نظر |
| وہ جس سے عزم کی دنیا ہے آج تک آباد | | وہ جس نے فکر کو بخشی عمل کی جولانی |
| وہ جس کے ذکر سے وابستہ ذہن و دل کی کشاد | | وہ جس کی یاد ہے روحِ جہاد و جانِ ثبات |
| ٴٴحسینؑ ابن علیؑ آبروئے دانش و دادٴٴ | | اساسِ ہدیۂ تائبؔ ہے گفتۂ غالبؔ |
 |
| میں دل کی بات بفیضِ امامؑ کہتا ہوں | | حکایت غمِ ہستی تمام کہتا ہوں |
| انہیں سلام بصد احترام کہتا ہوں | | عزیمت ان کی ہے آئینۂ ضمیر نما |
| اسے بہارِ بقائے دوام کہتا ہوں | | ہے لازوال کچھ ایسا حسینؑ کا کردار |
| جسے وقارِ قعود و قیام کہتا ہوں | | عبادتِ شبِ آخر وہ پورِ حیدرؑ کی |
| انہی کے گھر کو میں دارالسلام کہتا ہوں | | انہی کے در کو سمجھتا ہوں بابِ استقلال |
| کہ خود کو آلِؑ نبیؐ کا غلام کہتا ہوں | | یہ انتساب ہے سرمایہ ثبات مرا |
| جو حرفِ حق میں سر بزمِ عام کہتا ہوں | | یہ حوصلہ بھی ہے تائبؔ ، عنایتِ شبیرؑ |
 |
| نظم و ضبط و شکر کا خوگر حسینۿ ابنِ علی | | عزم و استقلال کا پیکر حسینۿ ابنِ علی |
| کاروانِ عشق کا رہبر حسینؑ ابنِ علیؑ | | حق پرستوں کی نرالی فوج کا بطلِ جلیل |
| وہ بہارِ باغِ پیغمبر حسینؑ ابنِ علیؑ | | گل بدن، گل پیرہن، گل رو، گل افشاں، گل بدوش |
| خوں میں ڈوبا وہ مہِ انور حسینؑ ابنِ علیؑ | | حدِّ فاصل بن گیا جو خیر و شر کے درمیاں |
| آبروئے عاشقاں تائبؔ شہید کربلا |
| افتحارِ فاتحؑ خیبر حسینؑ ابنِ علیؑ |
 |
| سیّد نذرالحسن تپشؔ امروہوی |
| شہؑ پہ اعدا کی چڑھائی دیکھئے | | آسماں کی کج ادائی دیکھئے |
| آکے میری بے ردائی دیکھئے | | کہتی تھی زینبؑ کہ بھائی دیکھئے |
| طالع حرؑ کی رسائی دیکھئے | | سرورِ عالمؐ نے بخشے سب گناہ |
| بوند پانی کی نہ پائی دیکھئے | | مرتے دم تک بھی غضب ہے ، شاہؑ نے |
| قید سے کب ہو رہائی دیکھئے | | رو کے بانوؐ سے سکینہؑ نے کہا |
| ہے یہ شانِ کبریائی دیکھئے | | ننگے سر ہوں فاطمہؑ کی بیٹیاں |
| جائیے رن کو نہ بھائی دیکھئے | | کہتی تھی زینبؑ یہ رو کر شاہؑ سے |
| ہوں بہت غم کی ستائی دیکھئے | | رنج دوری کا نہ مجھ کو دیجئے |
| آگ خیموں میں لگائی دیکھئے | | ناریوں نے بعدِ قتل شاہؑ بھی |
| ہر گھڑی مولا تپشؔ ہے بے قرار |
| کب ہو روضے تک رسائی دیکھئے |
 |
| تجسسؔ اعجازی |
| آبروئے کلمۂ توحید ہے انکار سے | | لکھ دیا شہؑ نے سرِ مقتل لہو کی دھار سے |
| ہم نے دیکھا ہے زمانے کو فرازِ دار سے | | آئینہ لے کر مزاجِ میثم تمّار سے |
| کر نہ پیمائش شعاعِ مہر کی رفتار سے | | عرصۂ معراج کی حد گرمیٔ بستر سے پوچھ |
| صبر کو پرکھا ہے شہؑ نے شکر کے معیار سے | | کرکے سجدے دوستوں کے امتحانِ صبر پر |
| آج تیغیں کٹ رہی ہیں آنسوئوں کی دھار سے | | ہے جہادِ عرصۂ ہستی بنامِ کربلا |
| رونمائی کی اجازت لی دلِ بیدار سے | | چوم کر پیشانیٔ حرؑ جلوۂ عاشور نے |
| یوں ملاتے ہیں جری کردار کو کردار سے | | خون سے زخموں کے اُبھری نکہتِ خونِ حسینؑ |
| اور کیا مانگے گی دنیا شاہؑ کے زوّار سے | | دولتِ زردست و پا معصوم جسموں کا لہو |
| ساتھ کانٹے بھی نکل آئے حدِ گلزار سے | | جب برہنہ پا چلے مقتل سے کوفے کی طرف |
| کیوں نہ ہوں اس زندگی کے نام پر بیزار سے | | سہمے سہمے سے یتیمؑ اور بے ردا سیدؐانیاں |
| کارواں گزرا ہے کوئی وادیٔ ایثار سے | | خون کے تھالوں میں بے سر جسم خاکستر خیام |
| آنسوئوں سے ڈھال کر سکّے غمِ شبیرؑ کے |
| بھر دیا دامن تجسسؔ دولتِ بیدار سے |
 |
| تجملؔ لکھنوی |
| ہر دل میں غمِ سبطِ پیمبرؐ نہیں ہوتا | | انعامِ خدا سب کو میسر نہیں ہوتا |
| وہ زخم ہے دل میں جو برابر نہیں ہوتا | | اشکوں سے علاجِ غمِ سرورؑ نہیں ہوتا |
| حیدرؑ کوئی کیا ہوگا ابوذرؑ نہیں ہوتا | | مولاؑ جو مرا نفسِ پیمبرؐ نہیں ہوتا |
| کُل جس میں بہتّر ہوں وہ لشکر نہیں ہوتا | | کہنے کے لئے کہدے زمانہ اسے لشکر |
| بیعت کے لئے نفسِ پیمبرؐ نہیں ہوتا | | بیعت کی علیؑ نے یہ کوئی عقل کی ہے بات |
| سینہ میں جو دل ہوتا ہے پتھر نہیں ہوتا | | اس دل کو غمِ شہؑ میں تڑپنا ہے ضروری |
| اتنا ہے کہ اندازۂ لشکر نہیں ہوتا | | اللہ و غنی صرف بہتّر کے مقابل |
| برباد پیمبرؐ کا بھرا گھر نہیں ہوتا | | احسان فراموش اگر ہوتی نہ اُ ّمت |
| کم کرنے سے کم رتبۂ حیدرؑ نہیں ہوتا | | پڑتی ہے کہاں چاند پہ ڈالے جو کوئی خاک |
| کچھ سعی بھی ہو صرف مقدّر نہیں ہوتا | | حرؑ نے قدمِ شاہؑ پہ سر رکھ کے بتایا |
| شاہوں کو بھی وہ آج میسر نہیں ہوتا | | جو ذاکرِ شبیرؑ کو حاصل ہے تجملؔ |
 |
| قلب محبوبِؐ الٰہی دلِ حیدرؑ توڑا | | نیزۂ ظلم نے کب سینۂ اکبرؑ توڑا |
| دم بھی جعفرؑ کی طرح ثانیٔ جعفرؑ توڑا | | نہر پر ہاتھ کٹا کے دلِ سرورؑ توڑا |
| شہ رگِ گردنِ سرورؑ نے یہ خنجر توڑا | | حرفِ بیعت دمِ شمشیر سے آگے نہ بڑھا |
| جس کے بابا نے اکےلے درِ خیبر توڑا | | کرلیا نہر پہ قبضہ تنِ تنہا اُس نے |
| آپ نے سبطِؑ نبیؐ شیشہ سے پتھر توڑا | | پس گیا شمر کا دل دیکھ کے حال اصغرؑ کا |
| خاک پر مرگئے یا دم سرِ بستر توڑا | | کہتے تھے شاہؑ کے انصارؑ کوئی فرق نہیں |
| تم نے کس طرح سے دم اے علی اکبرؑ توڑا | | بولیں لیلیٰؑ ہوئی سرورؑ کی بصارت زائل |
| زورِ سیلابِ بلا خوں میں نہا کر توڑا | | حق یہ ہے سبطِؑ پیمبرؐ نے بڑا کام کیا |
| سجدہ تیغوں میں کیا دم تہِ خنجر توڑا | | ختم کیں عشقِ الٰہی کی حدیں سرورؑ نے |
| آسماں ظلم کا مولاؑ نے جھکا کر توڑا | | کفر کے سر کو زمیں بوس کیا ٹھکراکے |
| رن میں دم بھائی نے بھائی کے برابر توڑا | | ساتھ گھوڑوں سے گرے دونوں ہی زینبؑ کے پسرؐ |
| رشتۂ الفتِ اولادِ پیمبرؐ توڑا | | کیوں نہ کافر کہیں ہم اس کو تجملؔ جس نے |
 |
| حق نے رکھّا ہی نہیں نفسِ پیمبرؐ کا جواب | | اہلِ دنیا لائیں گے کس طرح حیدرؑ کا جواب |
| گھِر کے لاکھوں میں بھی دیتا ہے برابر کا جواب | | ہے زمانہ میں علمبردارِ سرورؑ کا جواب |
| ابنِ حیدرؑ ہو تو ہوسکتا ہے حیدرؑ کا جواب | | نہر پر مثلِ اُحد کشتوں کے پشتے لگ گئے |
| بن نہیں پڑتا تھا لاکھوں سے بہتّر کا جواب | | کھیل کے جانوں پہ انصاؑرِ حسینیؑ یوں لڑے |
| تیر کھا کے مسکرائے یہ تھا اصغرؑ کا جواب | | موت کیسی ہے کیا جب زندگانی نے سوال |
| کربلا ہے خندق و صفین و خیبر کا جواب | | جرأتِ شبیرؑ حیدرؑ کی شجاعت کا نچوڑ |
| ہے کوئی اس آفتابِ روزِ محشر کا جواب | | خونِ اصغرؑ لے کے شہؑ نے اپنے منہ پر مل لیا |
| میری آنکھیں بن گئی ہیں حوضِ کوثر کا جواب | | تیرے ماتم کے نثار اے تشنۂ نہرِ فرات |
| ایک دن نامِ خدا ہوں گے پیمبرؐ کا جواب | | بچپنا اصغرؑ کا کہتا تھا جوانی دیکھنا |
| وہ لب لعلین تھے یاقوتِ احمر کا جواب | | پیاس نے اصغرؑ کی اُن کو برگِ سوسن کردیا |
| جو تھا حیدرؑ کا وہی تھا ابن حیدرؑ کا جواب | | جب مدینہ سے گئی تا کربلا بیعت کی بات |
| حسنِ یوسفؑ بھی نہ ٹھہرا حسنِ اکبرؑ کا جواب | | نوجوانی اس پہ وہ رنگِ شہادت کیا کہیں |
| کربلا نکلی شبِ ہجرت کے بستر کا جواب | | ہم تو سمجھے تھے کہ اب ایسی وفا ممکن نہیں |
| ایک کا ممکن نہیں ہے کیا بہتّر کا جواب | | اے تجملؔ تھے وحیدِ عصر انصاؑرِ حسینؑ |
 |
| علیؑ کا شیر اُلٹتا ہے آستینوں کو | | مزہ لڑائی کا آجائے گا لعینوں کو |
| مَلک ہزار جھکایا کریں جبینوں کو | | رہے گا جانِ عبادت حسینؑ کا سجدہ |
| وہ مرتبے نہیں حاصل فلک نشینوں کو | | ِملے جو خاک میں مل کے حبیبؑ کو رُتبے |
| کہاں گئے جو چڑھاتے تھے آستینوں کو | | صفیں اُلٹ کے صدا دی یہ شاہِؑ والا نے |
| کبھی نہ بھولے گی یہ خاک اِن جبینوں کو | | نماز پڑھ کے یہ کہتے تھے شہؑ رفیقوں سے |
| ملی مکاں کو بلندی شرف مکینوں کو | | جوابِ عرشِ الٰہی ہے اہلِ بیتؑ کا گھر |
| فلک پہ رکھ دیا لے جاکے اُن زمینوں کو | | یہ بات انیسؔ میں دیکھی کہ جن میں شعر کہے |
| ہوا نہ رنج مگر کلمہ گو لعینوں کو | | تجملؔ ارض و سما روئے شہؑ کی غربت پر |
 |
| وفائیں کرنے والے کرگئے سبطِؑ پیمبرؐ سے | | نہ اٹھنا تھا نہ اُٹھّے مرکے بھی شبیرؑ کے در سے |
| نہ ٹھہرے حرؑ کے آگے کیا لڑوگے ابن حیدرؑ سے | | کہا یہ جرأتِ عباسؑ نے اعدا کے لشکر سے |
| یہ کہیے مل گئے سبطِؑ نبیؐ حرؑ کو مقدر سے | | کوئی صورت کہاں تھی منزلِ حق تک رسائی کی |
| حبیبِؑ حق کی خوشبو آرہی تھی لاشِ اکبرؑ سے | | حسینؑ ابنِ علیؑ جب لے کے مقتل سے چلے لاشہ |
| جہاں نکلے ہوں اٹھارہ جنازے ایک ہی گھر سے | | نہ جانے کیا ہوا عالم وہاں کے رہنے والوں کا |
| وہ بیمارؑو حزیں جو خود نہ اُٹھ سکتا ہو بستر سے | | ستم دیکھو پیادہ لے گئے تا شام اُسے اعدا |
| تجملؔ جس کی اک اک موج ٹکراتی ہے کوثر سے | | یہ دریائے غمِ سبطِؑ پیمبرؐ بھی ہے کیا دریا |
 |
| قرآن کو انہیں نے رکھا ہے سنبھال کے | | کیا وصف ہوں بیان محمدؐ کی آلؑ کے |
| حیدرؑ نے انگلیاں درِ خیبر میں ڈال کے | | زورِ یداللٰہی کا نمونہ دکھا دیاٝ |
| بیٹھا ہوں اپنے دفن کی حسرت نکال کے | | تن پر چھڑک کے خاکِ شہیدانِ کربلا |
| بچّے بھی شیر تھے اسدِ ذوالجلال کے | | کیا کیا لڑے ہیں زینبِِؑؑ مضطر کے نونہال |
| دستِ خدا نے رکھدئیے کس بل نکال کے | | مرحب کو اپنے ساعد و بازو پہ ناز تھا |
| دو آدمی تو ملتے نہیں اِک خیال کے | | حیرت نہ کیوں ہو شہؑ کو بہتّر ملے رفیق |
| دل چاہتا ہے دیدو کلیجہ نکال کے | | جس دم کوئی حسینؑ کا پڑھتا ہے مرثیہ |
| مرنے کے واسطے ہوئے اٹّھارہ سال کے | | ماں نے جوان کردیا اکبرؑ کو پال کے |
| سرور زمیں پہ بیٹھ گئے دل سنبھال کے | | دیکھا جواں پسر کو جو دم توڑتے ہوئے |
| رکھتے حسینؑ دل کو کہاں تک سنبھال کے | | آنکھوں کا نور لے گئی مرگِ جواں پسر |
| دامن عبا کا لاشۂ اصغرؑ پہ ڈال کے | | اُ ّمت کو شہؑ نے قہرِ خدا سے بچالیا |
| وہ جو گدائے در ہیں محمدؐ کی آلؑ کے | | شاہوں کے آستاں پہ تجملؔ نہ جائیں گے |
 |
| ُسنیے ضرور ُسنیے مگر دل کو تھام کے | | جانکاہ واقعے ہیں شہِؑ تشنہ کام کے |
| تھے ساری زندگی میں وہی لمحے کام کے | | جو مہتمم تھے مجلسِ شاہِؑ انام کے |
| کلمہ زبان تک تھا مسلماں تھے نام کے | | اسلام ناشناس تھے قاتل امامؑ کے |
| تا کوفہ جم سکے نہ قدم فوجِ شام کے | | حملے وہ بے پناہ تھے شاہِؑ انام کے |
| دشمن خداõرسول کے قاتل امام کے | | قرآن میں دکھادے کوئی بخشے جائیں گے |
| جنت میں تھا حسینؑ کے دامن کو تھام کے | | صرف ایک پل میں حرؑ کا مقدّر بدل گیا |
| کیا سرنگوں ہوئے ہیں علم فوجِ شام کے | | لاکھوں سے رک سکا نہ علمدارِ شاہِ دیں |
| قرآن کی زباں تھی دہن میں امامؑ کے | | نیزہ پہ کررہا تھا تلاوت سرِ حسینؑ |
| قابل جو ہستیاں تھیں درود و سلام کے | | امت نے جان بوجھ کے اُن پر ستم کئے |
| لایا ہے چند شعر تجملؔ سلام کے | | روحِ روانِ فاطمہؐ زہرا قبول ہو |
 |
| ہیں مگر اک ابتدا ہیں انتہا کے سامنے | | صبرِ میں ایوبؐ سبطِ مصطفی کے سامنے |
| آفتابِ علم آلِ مصطفیؐ کے سامنے | | آج تک جلتے نہیں دیکھا کسی کا بھی چراغ |
| آگئی خود بڑھ کے جنت کربلا کے سامنے | | بہرِ استقبال سبطِؑ مصطفیؐ ہنگامِ عصر |
| کربلا ہوجاتی واقع مصطفیؐ کے سامنے | | یہ منافق وہ ہیں ان کا بس اگرچلتا کہیں |
| مرکے جانا ہے شہیدِؑ کربلا کے سامنے | | دیکھنا زخمِ جگر بھرنے نہ پائیں دوستو |
| میں اسی صورت سے جائوں گا خدا کے سامنے | | خونِ اصغرؑ َمل کے چہرہ پر یہ کہتے تھے حسینؑ |
| سر کہیں صابر کا جھکتا ہے جفا کے سامنے | | کہتا تھا نیزہ پہ دنیا سے حسینیؑ حوصلہ |
| نزع میں تڑپے نہ سبطِؑ مصطفیؐ کے سامنے | | ہوگا سرور کو قلق عباسؑ اتنا سوچ کے |
| اے تجملؔ کربلا ہے کربلا کے سامنے | | دل جگر دونوں تڑپتے ہیں غمِ شبیرؑ میں |
 |
| کرم کی بھیک نہ مانگوں گا زندگی کے لئے | | یہ زیب دیتا تھا کہنا حسینؑ ہی کے لئے |
| چراغ ِمل گیا کعبہ کو روشنی کے لئے | | حسینؑ خانۂ زہراؑ میں آپ کیا آئے |
| نظامِ دہر بدلنا پڑا علیؑ کے لئے | | خدا نے ڈوبتے سورج کو کردیا واپس |
| کلیجہ چاہیے دشمن کی دوستی کے لئے | | حسینؑ کرتے ہیں سیراب حرؑ کے لشکر کو |
| زمانہ اتنا نہ رویا کبھی کسی کے لئے | | غم حسینؑ میں اشکوں کے بہہ گئے دریا |
| خدا یہ وقت نہ لائے کبھی کسی کے لئے | | جوان بیٹے کی میّت اٹھارہے ہیں حسینؑ |
| میں ساتھ لے کے تجملؔ لحد میں جائوں گا |
| غم حسینؑ نہیں صرف جیتے جی کے لئے |
 |