بیدمؔ شاہ وارثی
مطلوبِ آفرینشِ ارض و سما علیؑ مقصو دِ ھَلْ اَتیٰ ہیں شہِؑ لا فتیٰ علیؑ
حلاّلِ مشکلات ہیں مشکل کشاؑ علیؑ بندوں کو اُن کے فکر و مصائب کا خوف کیا
مولاؑ مرے امامؑ مرے پیشوا علیؑ بندہ ہوں میں اُنہی کا انہی کا غلام ہوں
پیدا کوئی ہوا ہی نہیں دوسرا علیؑ جس طرح ایک ذاتِ محمدؐ ہے بے مثال
بیدمؔ یہی تو پانچ ہیں مقصود کائنات
خیرالنساؐ، حسینؑ و حسنؑ ، مصطفیؐ ، علیؑ
پیامؔ اعظمی
یونہی علیؑ ہیں دینِ پیمبرؐ کی آبرو جس طرح رُوح ہوتی ہے پیکر کی آبرو
ہے تیرے دم سے مسجد و منبر کی آبرو اے دین کے وقار پیمبرؐ کی آبرو
حیدرؑ سے خود ہے خانۂ داور کی آبرو کم تھی کہاں جو بڑھ گئی حیدرؑ کی آبرو
عزت صدف کو دیتی ہے گوہر کو آبرو کعبہ ہوا علیؑ کی ولادت سے محترم
اِس گھر کی آبرو سے ہے اُس گھر کی آبرو کعبے سے کم نہیں شرفِ خانۂ رسولؐ
نظروں سے گر گئی زر و گوہر کی آبرو خاکِ درِ علیؑ سے کیا جب مقابلہ
جھوٹی تھی کتنی مَرحب و عنتر کی آبرو تیغ علیؑ اٹھی تو بھرم کھُل کے رہ گیا
ٹوٹا تو بڑھ گئی درِ خیبر کی آبرو ایماں کے کارواں کی گزرگاہ بن گیا
فوجوں کا دَبدبہ ہے نہ لشکر کی آبرو بدلا ہے یوں علیؑ نے نگاہوں کا زاویہ
نیزوں کا ہے وقار نہ خنجر کی آبرو توڑا ترے حسینؑ نے ہر ظلم کا غرور
داراؔ کی شان ہے نہ سکندرؔ کی آبرو میں ہوں فقیرِ آلؑ مرے سامنے پیامؔ
بولی زمیں کہ میں بھی نہیں کم ُحضور سے دیکھا جو آسماں نے زمیں کو ُغرور سے
غلمان سے ، ملک سے ، فرشتوں سے حور سے بولا فلک کہ ہے مرا دامن بھرا ہوا
خیرات آکے لیتے ہیں فخر و غرور سے بولی زمیں یہ سب درِ آلؑ رسولؐ پر
تابندہ ہیں جو فضلِ خدائے غفور سے بولا فلک کہ چاند ستارے ہیں میرے پاس
روشن ہیں یہ تو آلؑ پیمبرؐ کے ُنور سے بولی زمیں کہ چاند ستاروں پہ کیوں گھمنڈ
میرے مکیں جو کردیں اشارہ بھی دُور سے ٹکڑے ہو چاند ، ڈوب کے سورج پلٹ پڑے
کوثر چھلک رہا ہے شرابِ طہور سے کہنے لگا فلک مرے دامن کی شان دیکھ
شک ہو تو پوچھ معنیٔ کوثر حضورؐ سے بولی زمیں کہ اصل ہیں کوثر کی فاطمہؑ
اونچا ہے نخلِ طوبیٰ ترے نخلِ طور سے بولا فلک کہ کتنا کرے گی مقابلہ
چھوٹا ہے پھر بھی باغِ علیؑ کے کھجور سے بولی زمیں کہ مانا ترا طوبیٰ ہے بلند
نسبت اسے قریب سے ، ہے اس کو دُور سے بولا فلک کہ کعبے میں اور عرش میں ہے فرق
ٴٴکعبے میں نصف نور ملا نصف نور سےٴٴ بولی زمین عرشِ بریں پر ہوا جُدا
مجھ سے کہا کہ کب یہ سخن وَر کی بات ہے اک روز ایک صاحبِ زُلفِ دراز نے
بس فاطمہؑ کا ذکر ہے حیدرؑ کی بات ہے آتا نہیں ہے ذکرِ رسولؐ خدا تمہیں
کہنے لگے کہ ہاںٝ یہی جوہر کی بات ہے میں نہ کہا کہ ذکرِ رسولِ خدا کروں؟
بولے ہٹائو اس میں تو حیدرؑ کی بات ہے میں نے کیا جو دعوتِ اوّل کا تذکرہ
خندق کا ذکر ہے کہیں خیبر کی بات ہے میں نے کہا ، جہادِ پیمبرؐ کروں بیاں
اس میں تو صاف ضیغمِ دَاوَر کی بات ہے کہنے لگے کہ اور کوئی تذکرہ کرو
بولے کہ گھر میں رہنے دو یہ گھر کی بات ہے میں نے سُنایا آیۂ تطہیر کا نزول
یہ کہہ کے یہ تو خانۂ داور کی بات ہے میں نے نبیؐ کی بُت شکنی کا کیا جو ذکر
پائے علیؑ و دوشِ پیمبرؐ کی بات ہے کہنے لگے کہ دُکھتی ہوئی رگ نہ چھیڑیئے
بولے کہ یہ رسولؐ کے بستر کی بات ہے میں نے سُنایا جب شبِ ہجرت کا واقعہ
بولے کہ پھر غدیر کے منبر کی بات ہے میں نے نبیؐ کے آخری حج کا کیا جو ذکر
احمدؐ کی بات بات میں حیدرؑ کی بات ہے میں نے کہا ذکرِ نبیؐ کس طرح کروں؟
میں نے کہا کہ یہ تو مقدر کی بات ہے پوچھا کہ ذکر اوروں کا آتا نہیں ہے کیوں؟
اور کشتی ڈوب جائے ناخدا کے سامنے وقتِ آخر بیٹھ جائیں خود وہ آکے سامنے
مشکلوٝ آئو چلو مشکل کشا کے سامنے اب جہاں میں کر نہیں سکتا ہے کوئی فیصلہ
بند ہیں قرآں کے لب آل عباؑ کے سامنے کون دے دادِ سخن جب بولتی ہوں آیتیں
جس کو مولاؑ کہہ چکا ہوں مصطفیؐ کے سامنے اس کے لختِ دل کا ہو انکار لوگوٝ کس طرح
اب نہ کہنا یہ کسی حق آشنا کے سامنے ایک انساں اتنے دن تک کیسے زندہ رہ گیا
کیسے آئے ابنِ شاہِؑ کربلا کے سامنے کربلا کے بعد ہمت موت کی پڑتی نہیں
کیسے آئے موت زہراؑ کی دعا کے سامنے راستہ روکے کھڑی ہے آرزوئے فاطمہؑ
جانے وہ کیا لے کے جائیں گے خدا کے سامنے چند آنسو بھی نہیں ہیں جن کے دامن میں پیامؔ
غلام اُن کا ہوں ہر اختیار ہاتھ میں ہے خزاں ہے قبضے میں فصل بہار ہاتھ میں ہے
تو سمجھو رحمتِ پروردگار ہاتھ میں ہے جو دامنِ شہِؑ دُلدل سوار ہاتھ میں ہے
یہ میرا ہاتھ کسی ذمہ دار ہاتھ میں ہے مرے قدم کو زمانہ ہلا نہیں سکتا
کہ آنسوئوں کا دُرِ شاہوار ہاتھ میں ہے ہمیں غریب نہ سمجھو خرید لیں گے جناں
رسَن ہے جیب میں پھولوں کا ہار ہاتھ میں ہے زمانہ آیا ہے اظہارِ دوستی کے لئے
زہے نصیب کہ ہر کاروبار ہاتھ میں ہے جنابِ شیخ کی مسجد بھی بادہ خانہ بھی
جنوں پکارا کہ پھینکو غبار ہاتھ میں ہے کہا خرد نے کہ لعل و گہر ہیں مٹھّی میں
خدا کا دین ترے ذمہ دار ہاتھ میں ہے نبیؐ کی لخت جگر ، بعدِ مرسلِ اعظم
کہ عزت چمنِ روزگار ہاتھ میں ہے خدا کے دین کی نبضوں پہ انگلیاں ہیں تری
مدارِ گردشِ لیل و نہار ہاتھ میں ہے یہ چوبِ آسیہ بی بی کی مٹھّیوں میں نہیں
جبھی تو قوتِ پروردگار ہاتھ میں ہے علیؑ نے کھائی زہراؑ ے ہاتھ کی روٹی
بس اب تو رحمتِ پروردگار ہاتھ میں ہے نبیؐ نے گود میں بیٹی کو لے کے دی یہ صدا
یہ آبلہ نہیں حق کا وقار ہاتھ میں ہے ہتھیلیوں میں ہے سورج نبیؐ کی عظمت کا
خدا کے شیر ہیں اور ذوالفقار ہاتھ میں ہے یہ سوچ کر نہ دکھایا علیؑ کو زخم اپنا
پیامؔ دشمن زہرا کو یہ خبر دے دو
مرا قلم مرے مدحت گزار ہاتھ میں ہے
تابشؔ دہلوی
یوں تو ہے اک خطۂ صحرا نہادہ کربلا حق کی منزل کربلا ہے حق کا جادہ کربلا
ہے حنین و بدر و خیبر کا اعادہ کربلا  اک تسلسل ہے حق و باطل کا شبیرؑ و یزید
کتنی رنگیں کربلا ہے کتنی سادہ کربلا سوچئے تو ایک مشہد دیکھئے تو ایک دشت
اپنی منزل، راستہ مقصد، ارادہ کربلا سارے جذبے منسلک بس ایک ہی وحدت میں ہیں
گام گام ابنِ علیؑ ہیں، جادہ جادہ کربلا آج بھی انسانیت کی حق نمائی کے لئے
کتنی لا محدود ہے کتنی کشادہ کربلا معرکے اِس کے حق و باطل کے سارے معرکے
سَر کے بل جائیں مدینہ پا پیادہ کربلا زندگی میں کاش تابشؔ وہ بھی دن آئے کہ ہم
جہادِ حق میں جو آزارِ جاں اُٹھاتے ہیں وہی تو فتح و ظفر کے نشاں اُٹھاتے ہیں
غبار اگرچہ بہت کارواں اٹھاتے ہیں نشانِ راہ جو روشن ہیں چھپ نہیں سکتے
عذابِ جاں پئے اِظہار جاں اٹھاتے ہیں یہی شناخت ہے اُن کی کہ مردِ حق شیوہ
اب اِس صدا کو سرِ لامکاں اٹھاتے ہیں مکاں میں گونجتا ہے نعرۂ حسینؑ حسینؑ
اِسی کی خاک سے یہ کہکشاں اٹھاتے ہیں ہیں کربلا کی زمیں ہی سے آسماں روشن
زمیں پہ رکھ کے جبیں آسماں اٹھاتے ہیں امام و مقتدی ایسے کہ سجدہ ریزی میں
کبھی قدم تو کبھی بیڑیاں اٹھاتے ہیں کڑے ہیں کوس اسیروں پہ شاہؑ کے ،تابشؔ
ہم کو ان آنکھوں میں پانی چاہیے پیاس پیاسوں کی بجھانی چاہیے
ہر جگہ اکبرؑ کو پانی چاہیے خیمہ گہ ہو یا مصافِ کربلا
عیدِ ماتم بھی منانی چاہیے عیدِ قرباں جو مناتے ہیں اُنھیں
کربلا کی پاسبانی چاہیے اے عزاداروٝ ذرا دل پر نگاہ
کس کو عمرِ جاودانی چاہیے ہاں پکارے جارہی ہے کربلا
ایک بھائی یارِ جانی چاہیے جب وفا کا امتحاں درپیش ہو
چشمِ تر پانی ہی پانی چاہیے تازگیٔ نخلِ ماتم کے لئے
مرنے والوں کو نشانی چاہیے اے محرّم زخمِ جاں درکار ہے
تابشؔ اب سارا بیان کربلا
دیدۂ تر کی زبانی چاہیے
تاثیرؔ نقوی
منزل نہاں ہے اُس کی جیسے رگِ گلو میں یوں تیر آرہا ہے اصغرؑ کی جستجو میں
عباسؑ بڑھ رہے ہیں پانی کی جستجو میں ہے تہلکہ سا برپا اک لشکرِ عدو میں
پہروں سے مضطرب ہیں موجیں اس آرزو میں پہنچا دے میرے مالک خیموں میں شاہِ دیں کے
ہنس ہنس کے جان دینا شامل ہے ان کی خو میں بولی اَجل یہ بڑھ کر جب مسکرائے اصغرؑ
طوفان وہ نہاں ہے ہر قطرۂ لہو میں برسے گا خونِ حسرت کالی گھٹا سے برسوں
پیوست ہو گیا یوں ناوک رگِ گلو میں باقی رہا نہ امکاں اصغرؑ کی زندگی کا
جو جنگ کر رہا ہو مرنے کی آرزو میں تیرِ مږہ سے اس کے خود موت کانپتی ہے
کیا کیا نہ کہہ گیا تو خاموش گفتگو میں اے مسکرانے والے دستِ شہِؑ ُہدا پر
پروانے جیسے آئیں مرنے کی آرزو میں انصارِ شاہِؑ والا یوں گردِ شاہِؑ دیں تھے
تاثیرؔ نارِ دوزخ اُس پر حرام ہوگی
شبیرؑ کی محبت شامل ہے جس کی خو میں
حفیظ تائبؔ
زیبا ہے لقب تجھ کو امامِؑ الشہدا کا چرچا ہے جہاں میں تری تسلیم و رضا کا
رخ پھیر دیا جس نے زمانے کی ہوا کا نازِ بشریت ہے ترا سجدۂ آخر
تو باب نیا کھول گیا صدق و صفا کا نذرانۂ جاں پیش کیا دین کی خاطر
ہر عصر میں جلوہ ہے ترے رنگِ قبا کا ہر عہد میں خوشبو ہے تری موجِ نفس کی
خوں تیری رگوں میں تھا رواں شیرِ خدا کا حق گوئی و ثابت قدمی تیری مثالی
جاں دنیا تھا گو شیوہ سدا اہلِ وفا کا دنیا میں جدا ہے ترا اندازِ شہادت
اترا ہوا کیوں چہرہ تھا کوفے کی فضا کا جس شام کئی چاند تھے کربل کی زمیں پر
کیا کہنا ہے تیرے لب قرآن سرا کا کیا بات ترے فرقِ شفق رنگ کی مولا
حق آشنا و شہادت مآب و رحمت زاد حسینؑ ابن علیؑ ماہِ مطلعِ انوار
چمن طراز و صبا مږدہ و بہار ایجاد حسینؑ مشہدِ تسلیم کا جلال و جمال
امامِؑ عصر ، سفیرِ بقا ، امیرِ معاد حسینؑ حریت آموز و زندگی افروز
حسینؑ ابن علیؑ ماہ رو ، گلاب نہاد حسینؑ ابن علیؑ سروِ خو ، سپہرِ وقار
وہ جس کی تیغ نے توڑا طلسمِ استبداد حسینؑ سیّدِ شباّنِ جنتِ فردوس
وہ برگِ صبر ، وہ بارِ رضا ، وہ نخلِ مراد وہ جس کے غم سے عبارت بہارِ فکر و نظر
وہ جس سے عزم کی دنیا ہے آج تک آباد وہ جس نے فکر کو بخشی عمل کی جولانی
وہ جس کے ذکر سے وابستہ ذہن و دل کی کشاد وہ جس کی یاد ہے روحِ جہاد و جانِ ثبات
ٴٴحسینؑ ابن علیؑ آبروئے دانش و دادٴٴ اساسِ ہدیۂ تائبؔ ہے گفتۂ غالبؔ
رختِ وفا رہے بہم خونِ حسینؑ کی قسم لرزے نہ عزم کا علم خونِ حسینؑ کی قسم
جرم ہے لغزشِ قدم خونِ حسینؑ کی قسم راہروانِ ملک حق اس کے صراطِ پاک پر
توڑو مفاد کے صنم خونِ حسینؑ کی قسم زمزمۂ جہاد سے سینوں میں بجلیاں بھرو
کٹ کے رہے گی شامِ غم خونِ حسینؑ کی قسم ابھرے گا مہرِ حریت وادی کاشمیر میں
میں دل کی بات بفیضِ امامؑ کہتا ہوں حکایت غمِ ہستی تمام کہتا ہوں
انہیں سلام بصد احترام کہتا ہوں عزیمت ان کی ہے آئینۂ ضمیر نما
اسے بہارِ بقائے دوام کہتا ہوں ہے لازوال کچھ ایسا حسینؑ کا کردار
جسے وقارِ قعود و قیام کہتا ہوں عبادتِ شبِ آخر وہ پورِ حیدرؑ کی
انہی کے گھر کو میں دارالسلام کہتا ہوں انہی کے در کو سمجھتا ہوں بابِ استقلال
کہ خود کو آلِؑ نبیؐ کا غلام کہتا ہوں یہ انتساب ہے سرمایہ ثبات مرا
جو حرفِ حق میں سر بزمِ عام کہتا ہوں یہ حوصلہ بھی ہے تائبؔ ، عنایتِ شبیرؑ
نظم و ضبط و شکر کا خوگر حسینۿ ابنِ علی عزم و استقلال کا پیکر حسینۿ ابنِ علی
کاروانِ عشق کا رہبر حسینؑ ابنِ علیؑ حق پرستوں کی نرالی فوج کا بطلِ جلیل
وہ بہارِ باغِ پیغمبر حسینؑ ابنِ علیؑ گل بدن، گل پیرہن، گل رو، گل افشاں، گل بدوش
خوں میں ڈوبا وہ مہِ انور حسینؑ ابنِ علیؑ حدِّ فاصل بن گیا جو خیر و شر کے درمیاں
آبروئے عاشقاں تائبؔ شہید کربلا
افتحارِ فاتحؑ خیبر حسینؑ ابنِ علیؑ
سیّد نذرالحسن تپشؔ امروہوی
شہؑ پہ اعدا کی چڑھائی دیکھئے آسماں کی کج ادائی دیکھئے
آکے میری بے ردائی دیکھئے کہتی تھی زینبؑ کہ بھائی دیکھئے
طالع حرؑ کی رسائی دیکھئے سرورِ عالمؐ نے بخشے سب گناہ
بوند پانی کی نہ پائی دیکھئے مرتے دم تک بھی غضب ہے ، شاہؑ نے
قید سے کب ہو رہائی دیکھئے رو کے بانوؐ سے سکینہؑ نے کہا
ہے یہ شانِ کبریائی دیکھئے ننگے سر ہوں فاطمہؑ کی بیٹیاں
جائیے رن کو نہ بھائی دیکھئے کہتی تھی زینبؑ یہ رو کر شاہؑ سے
ہوں بہت غم کی ستائی دیکھئے رنج دوری کا نہ مجھ کو دیجئے
آگ خیموں میں لگائی دیکھئے ناریوں نے بعدِ قتل شاہؑ بھی
ہر گھڑی مولا تپشؔ ہے بے قرار
کب ہو روضے تک رسائی دیکھئے
تجسسؔ اعجازی
آبروئے کلمۂ توحید ہے انکار سے لکھ دیا شہؑ نے سرِ مقتل لہو کی دھار سے
ہم نے دیکھا ہے زمانے کو فرازِ دار سے آئینہ لے کر مزاجِ میثم تمّار سے
کر نہ پیمائش شعاعِ مہر کی رفتار سے عرصۂ معراج کی حد گرمیٔ بستر سے پوچھ
صبر کو پرکھا ہے شہؑ نے شکر کے معیار سے کرکے سجدے دوستوں کے امتحانِ صبر پر
آج تیغیں کٹ رہی ہیں آنسوئوں کی دھار سے ہے جہادِ عرصۂ ہستی بنامِ کربلا
رونمائی کی اجازت لی دلِ بیدار سے چوم کر پیشانیٔ حرؑ جلوۂ عاشور نے
یوں ملاتے ہیں جری کردار کو کردار سے خون سے زخموں کے اُبھری نکہتِ خونِ حسینؑ
اور کیا مانگے گی دنیا شاہؑ کے زوّار سے دولتِ زردست و پا معصوم جسموں کا لہو
ساتھ کانٹے بھی نکل آئے حدِ گلزار سے جب برہنہ پا چلے مقتل سے کوفے کی طرف
کیوں نہ ہوں اس زندگی کے نام پر بیزار سے سہمے سہمے سے یتیمؑ اور بے ردا سیدؐانیاں
کارواں گزرا ہے کوئی وادیٔ ایثار سے خون کے تھالوں میں بے سر جسم خاکستر خیام
آنسوئوں سے ڈھال کر سکّے غمِ شبیرؑ کے
بھر دیا دامن تجسسؔ دولتِ بیدار سے
تجملؔ لکھنوی
ہر دل میں غمِ سبطِ پیمبرؐ نہیں ہوتا انعامِ خدا سب کو میسر نہیں ہوتا
وہ زخم ہے دل میں جو برابر نہیں ہوتا اشکوں سے علاجِ غمِ سرورؑ نہیں ہوتا
حیدرؑ کوئی کیا ہوگا ابوذرؑ نہیں ہوتا مولاؑ جو مرا نفسِ پیمبرؐ نہیں ہوتا
کُل جس میں بہتّر ہوں وہ لشکر نہیں ہوتا کہنے کے لئے کہدے زمانہ اسے لشکر
بیعت کے لئے نفسِ پیمبرؐ نہیں ہوتا بیعت کی علیؑ نے یہ کوئی عقل کی ہے بات
سینہ میں جو دل ہوتا ہے پتھر نہیں ہوتا اس دل کو غمِ شہؑ میں تڑپنا ہے ضروری
اتنا ہے کہ اندازۂ لشکر نہیں ہوتا اللہ و غنی صرف بہتّر کے مقابل
برباد پیمبرؐ کا بھرا گھر نہیں ہوتا احسان فراموش اگر ہوتی نہ اُ ّمت
کم کرنے سے کم رتبۂ حیدرؑ نہیں ہوتا پڑتی ہے کہاں چاند پہ ڈالے جو کوئی خاک
کچھ سعی بھی ہو صرف مقدّر نہیں ہوتا حرؑ نے قدمِ شاہؑ پہ سر رکھ کے بتایا
شاہوں کو بھی وہ آج میسر نہیں ہوتا جو ذاکرِ شبیرؑ کو حاصل ہے تجملؔ
قلب محبوبِؐ الٰہی دلِ حیدرؑ توڑا نیزۂ ظلم نے کب سینۂ اکبرؑ توڑا
دم بھی جعفرؑ کی طرح ثانیٔ جعفرؑ توڑا نہر پر ہاتھ کٹا کے دلِ سرورؑ توڑا
شہ رگِ گردنِ سرورؑ نے یہ خنجر توڑا حرفِ بیعت دمِ شمشیر سے آگے نہ بڑھا
جس کے بابا نے اکےلے درِ خیبر توڑا کرلیا نہر پہ قبضہ تنِ تنہا اُس نے
آپ نے سبطِؑ نبیؐ شیشہ سے پتھر توڑا پس گیا شمر کا دل دیکھ کے حال اصغرؑ کا
خاک پر مرگئے یا دم سرِ بستر توڑا کہتے تھے شاہؑ کے انصارؑ کوئی فرق نہیں
تم نے کس طرح سے دم اے علی اکبرؑ توڑا بولیں لیلیٰؑ ہوئی سرورؑ کی بصارت زائل
زورِ سیلابِ بلا خوں میں نہا کر توڑا حق یہ ہے سبطِؑ پیمبرؐ نے بڑا کام کیا
سجدہ تیغوں میں کیا دم تہِ خنجر توڑا ختم کیں عشقِ الٰہی کی حدیں سرورؑ نے
آسماں ظلم کا مولاؑ نے جھکا کر توڑا کفر کے سر کو زمیں بوس کیا ٹھکراکے
رن میں دم بھائی نے بھائی کے برابر توڑا ساتھ گھوڑوں سے گرے دونوں ہی زینبؑ کے پسرؐ
رشتۂ الفتِ اولادِ پیمبرؐ توڑا کیوں نہ کافر کہیں ہم اس کو تجملؔ جس نے
حق نے رکھّا ہی نہیں نفسِ پیمبرؐ کا جواب اہلِ دنیا لائیں گے کس طرح حیدرؑ کا جواب
گھِر کے لاکھوں میں بھی دیتا ہے برابر کا جواب ہے زمانہ میں علمبردارِ سرورؑ کا جواب
ابنِ حیدرؑ ہو تو ہوسکتا ہے حیدرؑ کا جواب نہر پر مثلِ اُحد کشتوں کے پشتے لگ گئے
بن نہیں پڑتا تھا لاکھوں سے بہتّر کا جواب کھیل کے جانوں پہ انصاؑرِ حسینیؑ یوں لڑے
تیر کھا کے مسکرائے یہ تھا اصغرؑ کا جواب موت کیسی ہے کیا جب زندگانی نے سوال
کربلا ہے خندق و صفین و خیبر کا جواب جرأتِ شبیرؑ حیدرؑ کی شجاعت کا نچوڑ
ہے کوئی اس آفتابِ روزِ محشر کا جواب خونِ اصغرؑ لے کے شہؑ نے اپنے منہ پر مل لیا
میری آنکھیں بن گئی ہیں حوضِ کوثر کا جواب تیرے ماتم کے نثار اے تشنۂ نہرِ فرات
ایک دن نامِ خدا ہوں گے پیمبرؐ کا جواب بچپنا اصغرؑ کا کہتا تھا جوانی دیکھنا
وہ لب لعلین تھے یاقوتِ احمر کا جواب پیاس نے اصغرؑ کی اُن کو برگِ سوسن کردیا
جو تھا حیدرؑ کا وہی تھا ابن حیدرؑ کا جواب جب مدینہ سے گئی تا کربلا بیعت کی بات
حسنِ یوسفؑ بھی نہ ٹھہرا حسنِ اکبرؑ کا جواب نوجوانی اس پہ وہ رنگِ شہادت کیا کہیں
کربلا نکلی شبِ ہجرت کے بستر کا جواب ہم تو سمجھے تھے کہ اب ایسی وفا ممکن نہیں
ایک کا ممکن نہیں ہے کیا بہتّر کا جواب اے تجملؔ تھے وحیدِ عصر انصاؑرِ حسینؑ
علیؑ کا شیر اُلٹتا ہے آستینوں کو مزہ لڑائی کا آجائے گا لعینوں کو
مَلک ہزار جھکایا کریں جبینوں کو رہے گا جانِ عبادت حسینؑ کا سجدہ
وہ مرتبے نہیں حاصل فلک نشینوں کو ِملے جو خاک میں مل کے حبیبؑ کو رُتبے
کہاں گئے جو چڑھاتے تھے آستینوں کو صفیں اُلٹ کے صدا دی یہ شاہِؑ والا نے
کبھی نہ بھولے گی یہ خاک اِن جبینوں کو نماز پڑھ کے یہ کہتے تھے شہؑ رفیقوں سے
ملی مکاں کو بلندی شرف مکینوں کو جوابِ عرشِ الٰہی ہے اہلِ بیتؑ کا گھر
فلک پہ رکھ دیا لے جاکے اُن زمینوں کو یہ بات انیسؔ میں دیکھی کہ جن میں شعر کہے
ہوا نہ رنج مگر کلمہ گو لعینوں کو تجملؔ ارض و سما روئے شہؑ کی غربت پر
وفائیں کرنے والے کرگئے سبطِؑ پیمبرؐ سے نہ اٹھنا تھا نہ اُٹھّے مرکے بھی شبیرؑ کے در سے
نہ ٹھہرے حرؑ کے آگے کیا لڑوگے ابن حیدرؑ سے کہا یہ جرأتِ عباسؑ نے اعدا کے لشکر سے
یہ کہیے مل گئے سبطِؑ نبیؐ حرؑ کو مقدر سے کوئی صورت کہاں تھی منزلِ حق تک رسائی کی
حبیبِؑ حق کی خوشبو آرہی تھی لاشِ اکبرؑ سے حسینؑ ابنِ علیؑ جب لے کے مقتل سے چلے لاشہ
جہاں نکلے ہوں اٹھارہ جنازے ایک ہی گھر سے نہ جانے کیا ہوا عالم وہاں کے رہنے والوں کا
وہ بیمارؑو حزیں جو خود نہ اُٹھ سکتا ہو بستر سے ستم دیکھو پیادہ لے گئے تا شام اُسے اعدا
تجملؔ جس کی اک اک موج ٹکراتی ہے کوثر سے یہ دریائے غمِ سبطِؑ پیمبرؐ بھی ہے کیا دریا
قرآن کو انہیں نے رکھا ہے سنبھال کے کیا وصف ہوں بیان محمدؐ کی آلؑ کے
حیدرؑ نے انگلیاں درِ خیبر میں ڈال کے زورِ یداللٰہی کا نمونہ دکھا دیاٝ
بیٹھا ہوں اپنے دفن کی حسرت نکال کے تن پر چھڑک کے خاکِ شہیدانِ کربلا
بچّے بھی شیر تھے اسدِ ذوالجلال کے کیا کیا لڑے ہیں زینبِِؑؑ مضطر کے نونہال
دستِ خدا نے رکھدئیے کس بل نکال کے مرحب کو اپنے ساعد و بازو پہ ناز تھا
دو آدمی تو ملتے نہیں اِک خیال کے حیرت نہ کیوں ہو شہؑ کو بہتّر ملے رفیق
دل چاہتا ہے دیدو کلیجہ نکال کے جس دم کوئی حسینؑ کا پڑھتا ہے مرثیہ
مرنے کے واسطے ہوئے اٹّھارہ سال کے ماں نے جوان کردیا اکبرؑ کو پال کے
سرور زمیں پہ بیٹھ گئے دل سنبھال کے دیکھا جواں پسر کو جو دم توڑتے ہوئے
رکھتے حسینؑ دل کو کہاں تک سنبھال کے آنکھوں کا نور لے گئی مرگِ جواں پسر
دامن عبا کا لاشۂ اصغرؑ پہ ڈال کے اُ ّمت کو شہؑ نے قہرِ خدا سے بچالیا
وہ جو گدائے در ہیں محمدؐ کی آلؑ کے شاہوں کے آستاں پہ تجملؔ نہ جائیں گے
ُسنیے ضرور ُسنیے مگر دل کو تھام کے جانکاہ واقعے ہیں شہِؑ تشنہ کام کے
تھے ساری زندگی میں وہی لمحے کام کے جو مہتمم تھے مجلسِ شاہِؑ انام کے
کلمہ زبان تک تھا مسلماں تھے نام کے اسلام ناشناس تھے قاتل امامؑ کے
تا کوفہ جم سکے نہ قدم فوجِ شام کے حملے وہ بے پناہ تھے شاہِؑ انام کے
دشمن خداõرسول کے قاتل امام کے قرآن میں دکھادے کوئی بخشے جائیں گے
جنت میں تھا حسینؑ کے دامن کو تھام کے صرف ایک پل میں حرؑ کا مقدّر بدل گیا
کیا سرنگوں ہوئے ہیں علم فوجِ شام کے لاکھوں سے رک سکا نہ علمدارِ شاہِ دیں
قرآن کی زباں تھی دہن میں امامؑ کے نیزہ پہ کررہا تھا تلاوت سرِ حسینؑ
قابل جو ہستیاں تھیں درود و سلام کے امت نے جان بوجھ کے اُن پر ستم کئے
لایا ہے چند شعر تجملؔ سلام کے روحِ روانِ فاطمہؐ زہرا قبول ہو
ہیں مگر اک ابتدا ہیں انتہا کے سامنے صبرِ میں ایوبؐ سبطِ مصطفی کے سامنے
آفتابِ علم آلِ مصطفیؐ کے سامنے آج تک جلتے نہیں دیکھا کسی کا بھی چراغ
آگئی خود بڑھ کے جنت کربلا کے سامنے بہرِ استقبال سبطِؑ مصطفیؐ ہنگامِ عصر
کربلا ہوجاتی واقع مصطفیؐ کے سامنے یہ منافق وہ ہیں ان کا بس اگرچلتا کہیں
مرکے جانا ہے شہیدِؑ کربلا کے سامنے دیکھنا زخمِ جگر بھرنے نہ پائیں دوستو
میں اسی صورت سے جائوں گا خدا کے سامنے خونِ اصغرؑ َمل کے چہرہ پر یہ کہتے تھے حسینؑ
سر کہیں صابر کا جھکتا ہے جفا کے سامنے کہتا تھا نیزہ پہ دنیا سے حسینیؑ حوصلہ
نزع میں تڑپے نہ سبطِؑ مصطفیؐ کے سامنے ہوگا سرور کو قلق عباسؑ اتنا سوچ کے
اے تجملؔ کربلا ہے کربلا کے سامنے دل جگر دونوں تڑپتے ہیں غمِ شبیرؑ میں
کرم کی بھیک نہ مانگوں گا زندگی کے لئے یہ زیب دیتا تھا کہنا حسینؑ ہی کے لئے
چراغ ِمل گیا کعبہ کو روشنی کے لئے حسینؑ خانۂ زہراؑ میں آپ کیا آئے
نظامِ دہر بدلنا پڑا علیؑ کے لئے خدا نے ڈوبتے سورج کو کردیا واپس
کلیجہ چاہیے دشمن کی دوستی کے لئے حسینؑ کرتے ہیں سیراب حرؑ کے لشکر کو
زمانہ اتنا نہ رویا کبھی کسی کے لئے غم حسینؑ میں اشکوں کے بہہ گئے دریا
خدا یہ وقت نہ لائے کبھی کسی کے لئے جوان بیٹے کی میّت اٹھارہے ہیں حسینؑ
میں ساتھ لے کے تجملؔ لحد میں جائوں گا
غم حسینؑ نہیں صرف جیتے جی کے لئے
تصورؔ حسینؑ زیدی
رفتہ رفتہ کھل رہا ہے میرے منظر کا مزاج خون برسانے چلا ہے دیدۂ تر کا مزاج
دفعتاً بدلا نہیں حرِّؑ دلاور کا مزاج آئینہ میں دل کے پہلے ہی سے تھا عکسِ حسینؑ
لے کے آیا تھا جو دنیا میں سمندر کا مزاج تشنہ کامی کی وہ ساری منزلیں طے کر گیا
خود ہی بھاری ہوگیا پتّھر پہ پتّھر کا مزاج مسکرایا کس ادا کے ساتھ اک ننھا سا پھول
دیر تک روتا رہا زہراؑ کی چادر کا مزاج شام کی راہوں میں زینبؐ کو کھلے سر دیکھ کر
میرے مولا اب تصوّرؔ کو عطا کردیجئے
میثمِؑ ّتمار کا دل اور قنبرؑ کا مزاج
مرزا تعشقؔ
دیر تک حسرت سے منہ دیکھا کیے شمشیر کا کوئی بھی ہمدم دمِ آخر نہ تھا شبیر کا
دم مرا دم بھر رہا ہے اُلفتِ شبیرؑ کا نزع میں کہتا تھا حرؑ شدّت تنفس کی نہیں
کوچ کا نقاّرہ نالہ ہوگیا زنجیر کا سب چلے سجادؑ جب اٹھے پہن کر بیڑیاں
ہے خدا حافظ بیاباں میں مرے بے شیرؑ کا کہتی تھی رورو کے یہ بانو اندھیری رات میں
سامنا ہو جس جگہ سے روضۂ شبیرؑ کا خلد میں رکھنا ہو اے رضواں تو وہ جادے مجھے
دل کھنچ آیا جب کھنچا سینے سے پیکاں تیر کا اے زہے اخلاق اللہ رے مروت شاہ کی
میں بھی رستہ دیکھتا ہوں شاہِؑ خیبر گیرؑ کا سخت گیری ہو جہاں تک تجھ سے ہو پائے زمیں
بوجھ ہے گردن پہ خونِ اصغرِؑ بے شیر کا سر کماں کا جھک گیا سوفار کا منہ کھل گیا
تھا فقط مرقوم ذاکر حضرتِ شبیرؑ کا اے تعشقؔ نام کچھ نکلا نہ میرا روزِ حشر
بے وطن کرتے ہیں سامانِ سفر آخرِ شب باندھی مرنے پہ غریبوں نے کمر آخرِ شب
کہ فغاں کرتے ہیں مرغانِ سحر آخرِ شب صبحِ عاشور کا اب تک ہے دلوں کو دھڑکا
دردِ دل اولِ شب دردِ جگر آخرِ شب دو فقط ہجر کی راتوں میں ہیں صغر اؑ کے انیس
رات بھر پھر کے ملا ہے مجھے گھر آخرِ شب گور ہے پیشِ نظر شامِ جوانی ہے تمام
صبحِ پیدائشِ صاحب تھی تعشقؔ کیا صبح
جس کے ظاہر تھے نشاں مثلِ قمر آخرِ شب
نعیم تقویؔ
جو گدا ہوکے بھی قسمت کا سکندر نکلے باعثِ رشک نہ کیوں حرؑ کا مقدّر نکلے
صبحِ آزادیٔ انساں کا یہ مظہر نکلے رات کیا ختم ہوئی حرؑ کی تو قسمت چمکی
جبکہ شبیرؑ لئے ہاتھوں پہ اصغرؑ نکلے جس نے دیکھا ، کیا معصوم پہ قرآں کا گماں
ہم بھی ، بھیّا علی اکبرؑ کے برابر نکلے مسکراکر سرِ میداں علی اصغرؑ نے کہا
دیکھئے حضرتِ زینبؐ ، علی اکبرؑ نکلے پہلے قرباں تو کئے عونؑ و محمدؑ ، لیکن
سبطِؑ سرکارِ دو عالمؐ کے ہو خادم تقویؔ
تم بفضلِ شہِؑ لولاک سخنور نکلے
تقیؔ عابدی
تقیؔ اب پڑھے گا قصیدہ علیؑ کا غدیری ہیں جمع سماں ہے خوشی کا
میں کیسے بُھلادوں وہ خطبہ نبیؑ کا نبیؑ نے پڑھا ہے جو کلمہ علیؑ کا
اٹھو شیخ موقع ہے یہ خود کشی کا سُنادوں گا اب میں فضائل علیؑ کے
شجاعت میں چلتا ہے سکّہ اسی کا جسے ماں نے بچپن سے حیدرؑ پکارا
کہاں جائوگے شیخ سب ہے علیؑ کا ہے جنت بھی ان کی ہے کوثر بھی ان کا
ہے ایسا اثر نعرۂ حیدریؑ کا لرزتے ہیں دل آج بھی خیبری کے
کہوں گا علیؑ کا ، علیؑ کا، علیؑ کا اگر کوئی پوچھے میں بندہ ہوں کس کا
بغض علیؑ ہو دل میں تو ہرگز شفا نہیں توبہ تو ہر گناہ کی ہوتی ہے یوں مگر
دفتر تمام ہوگیا اور کچھ لکھا نہیں جب بھی علیؑ کی مدح کہی یہ لگا مجھے
جنت سے جن کا کوئی تعلق رہا نہیں جنت کو اُن سے مانگتا ہے شیخ رات دن
جنت ہے کس کی شیخ کو کچھ بھی پتا نہیں دو روٹیوں میں جنت فردوس بک گئی
ذکرِ حسینؑ ذکر خدا سے جُدا نہیں سجدے کو طول دے کے بتایا رسولؐ نے
جبریلؑ جو رئیس ملک ہے جگہ نہیں کیا مرتبہ ہے چادرِ زہراؑ کا اے خدا
کعبے میں ہوگا مہدیٔ موعود کا ظہور
کعبہ ہے اِن کا شیخ ترے باپ کا نہیں
سیّد محمد تقیؔ
کھِلا ہے آج پہلا پھول گلزارِ امامتؑ کا نظر آئے نہ کیوں کعبے میں منظر باغِ جنت کا
نمایاں ہوگیا خورشید تاباں نورِ وحدت کا ہوا دنیائے دوں میں خاتمہ کفر و ضلالت کا
دیا اس شمع نے احباب کو پروانہ جنت کا علیؑ نے آکے پیدا کردیا سامان راحت کا
قدم کعبے میں آیا راکبِ دوشِ رسالتؐ کا صنم ہیں لرزہ براندام یہ عالم ہے صولت کا
خدا کے گھر امام آتا ہے دُنیائے امامت کا رجب کی تیرہویں پیغام لائی فضل و رحمت کا
حدودِ شرع میں رہ کر ہماری ہر ضرورت کا نبیؐ کے بعد اے مولا تمہیں سب کا سہارا ہو
عبادت کا، ریاضت کا، اطاعت کا، حکومت کا تمہارے دم سے ہی دونوں جہاں میں نام روشن ہے
عنایت کا ، مروّت کا ، محبت کا ، مودّت کا یہ وہ ہادی ہے جس کا ہر عمل معیارِ کامل ہے
تمہیں مرکز بنایا ہے خدا نے ہر فضیلت کا کوئی کس کس فضیلت کو بتائے اے مرے مولاؑ
زبان سے کون، دل سے کون دم بھرتا ہے الفت کا حقیقت آپ پر روشن ہے مولاؑ سارے عالم کی
کہ یہ اک کھیل تھا سیفِ خدا کے دستِ قدرت کا تعجب کیا پرِ جبریلؑ ہو یا بابِ خیبر ہو
ادا کرتا رہا حق دینِ خالق کی حمایت کا کبھی خوابیدہ بستر پر کبھی بیدار خیبر میں
کہیں تو نورِ حق بن کر رہا پوشیدہ پوشیدہ
کہیںظاہر ہوا جامہ پہن کر آدمیت کا
ثاقبؔ مظفر پوری
کربلا بیساختہ ایسے میں یاد آجائے ہے جب فشارِ وقت سے انسان گھبراجائے ہے
ظلم جب بڑھ کر بہ حدِ کربلاآجائے ہے گونجنے لگتی ہے ہل من کی صدا ہر دشت میں
آدمی خوابیدہ تھا بیدار ہوتا جائے ہے پرورش ذہنوں کی کرتی جارہی ہے کربلا
دیکھ لو سورج گہن سے اب نکلتا جائے ہے وہ اُبھرتا جارہا ہے خیمۂ ظلمت سے حرؑ
مشک سے پانی نہیں دریا چھلکتا جائے ہے پورے دریا کو اٹھائے بازوئے عباسؑ ہے
اب یزیدی فوج سے ٹھہرا نہ بھاگاجائے ہے اک تبسم سے علی اصغرؑ نے یوں حملہ کیا
جب کبھی ہوتا ہے ثاقبؔ ذکرِ اربابِ وفا
کربلا منزل بہ منزل سامنے آجائے ہے
بادشاہ مرزا ثمرؔ
ہتھیلی پر ہے کس کس کے یہ گوہر دیکھتے جائو دُرِ اشکِ عزا اے اہلِ محشر دیکھتے جائو
ہوا ہے نصب نیزے پر وہی سر دیکھتے جائو رہا جو گود میں زہراؐ و احمدؐ کے مسلمانوٝ
ذرا اولاد والو، یہ بھی منظر دیکھتے جائو شہِؑ دیں کس طرح کڑیل جواں لاشیں اٹھاتے ہیں
مجھے مڑ مڑ کے ہمشکلِؑ پیمبرؐ دیکھتے جائو کہا شہِؑ نے رہو جب تک نظر کے سامنے بیٹا
ثمرؔ لکھو سراپائے نبی لیکن تصور میں
جمال روئے ہم شکل پیمبر دیکھتے جائو
ثمرؔ ہوشنگ آبادی
جابجا قرآن میں ان کے لئے آیا ہے کیا آپ کیا جانیں کہ اہلِ بیتؑ کا رُتبہ ہے کیا
ہم بتائیں گے تمہیں ساحل ہے کیا دریا ہے کیا ہم سے پوچھو آلؑ کا قرآن سے رشتہ
آلِؑ پیغمبرؐ کے آگے ملتِ بیضا ہے کیا خلد میں کوثر سے بڑھ کر نیل کا دریا ہے کیا
پوچھ اہلِ بیت سے قرآن میں ّلکھا ہے کیا اے مفکر معنی و تفسیر میں اُلجھا ہے کیا
عازمِ صحرا ہوں میں ، تو نے مجھے سمجھا ہے کیا دور ہو اے بے کسی ، ٖتو کیا ترا غلبہ ہے کیا
آیتیں کہتی ہیں کھُل کر سیرتِ زہراؑ ہے کیا ساری دنیا بھی رہے خاموش تو پروا ہے کیا
کوئی طوفاں کشتیٔ دیں کو ڈبو سکتا ہے کیا بادباں ہے چادرِ زہرؑا ، علیؑ ہیں ناخدا
یہ عقیدہ ہے ہمارا آپ کو شکوہ ہے کیا اوّلِ خلقت علیؑ ہیں اور ختم المرسلیںؐ
پہلے اس پر گفتگو ہو سیرتِ فضّہؐ ہے کیا عصمتِ خاتونِ جنت کو سمجھتا ہے تو پھر
پوچھئے فضّہؐ سے اہلِ بیت کی دُنیا ہے کیا زندگی کے آخری دم تک رہی ہیں ساتھ ساتھ
مدعی ہے کون ، منصف کون ہے ، دعویٰ ہے کیا خطبۂ زہراؐ پہ کچھ کہنے سے پہلے سوچئے
پھر سمجھ میں آئے گا خاکِ درِ زہراؐ ہے کیا حشر کے دن دیکھنا زاہد مرے ماتھے کا نور
خانۂ زہراؐ کا در جنت کا دروازہ ہے کیا آتے جاتے ہیں جو ہر دم حور و غلمان و ملک
جانے والوں کا کسی نے راستہ روکا ہے کیا اب کوئی جنت میں جائے یا کوئی دوزخ میں جائے
اے ثمرؔ تو زندگی کی راہ میں تنہا ہے کیا ہر نفس پر ہر قدم پر ساتھ ہیں تیرے علیؑ
میرے لئے کوثر ہے میرے لئے جنت ہے قرآن سے اُلفت ہے عترت سے محبت ہے
ایماں میں حرارت ہے ، قرآن سلامت ہے اے بنتِ نبیؐ تیرے بچّوں کی عنایت ہے
اب میری نگاہیں ہیں اور پردۂ غیبت ہے یا ان کا اشارہ ہے یا میری جسارت ہے
ہم اہلِ مودّت کو اس گھر سے محبت ہے یہ کعبہ کا کعبہ ہے یہ گھر ہے محمدؐ کا
اس گھر میں نبوتؐ ہے اس گھر میں امامتؑ ہے اس گھر کی نگہباں ہے کونین کی شہزادیؐ
الفاظ کا جادو ہے فقروں کی کرامت ہے ہم خوب سمجھتے ہیں واعظ ترے خطبوں کو
ایماں سے بغاوت ہے ملّت سے بغاوت ہے اولادِ پیمبرؐ کے دشمن سے گلے ملنا
جو کچھ بھی دعائوں کا مل جائے ثمرؔ مجھ کو
اُن کا درِ دولت ہے ، میں ہوں مری قسمت ہے
جاویدؔ
اس کا بندہ ہوں یہ کہدوں گا خدا کے سامنے حشر کے دن خوش رہوں گا مرتضیٰؑ کے سامنے
یہ گرہ بھی کھل گئی مشکل کشاؑ کے سامنے سہل اب کیونکر نہ ہو عقدہ تامّل کا سبب
لاشیں آئی ہیں جو بنتِ مرتضیٰؑ کے سامنے غم میںدو بچّوں کے ہیں آنکھوں سے دو دریا رواں
یہ سفینے تھم نہیں سکتے ہوا کے سامنے جتنے قطرے ہیں پسینے کے وہ کہہ دیں گے ابھی
بُت بھی سجدے کو جھکے گر کر خدا کے سامنے روبرو حیدرؑ کے کعبہ میں ہوئے بت سرنگوں
تھا وہ اک تنکے سے کم دستِ خدا کے سامنے بابِ خیبر بوجھ میں یوں تو سوا تھا کوہ سے
بے ادب گستاخیاں مشکل کشاؑ کے سامنے قبر میں پائوں کو پھیلانے کی ضد اچھی نہیں
مل گیا جاویدؔ اب تو رتبۂ معراج بھی
پست ہے گردوں ترے ذہنِ رسا کے سامنے
جاویدؔ مقصود
اوج پر چمکا ہے تارہ نطق کی تقدیر کا نام ہے میری زباں پر اصغرِؑ بے شیر کا
مٹ گیا سارا اثر عصیاں کی ہر تحریر کا لکھ دیا ہے نام دل پر اصغرِؑ بے شیر کا
اور ترے دشمن کے دل پر نقش ہے شمشیر کا نام تیرا یا علیؑ مومن کے دل پر عکسِ گل
عقل لیتی ہے سہارا شرع کی زنجیر کا دل کہ ہے آزاد کہتا ہے خدا ہو یا علیؑ
جلوہ یکساں ہے مرے مولاؑ تری تنویر کا نام اصغرؑ ہو کہ اکبرؑ فرق رتبے میں نہیں
واسطہ دیتے ہیں اعدا شاہِؑ خبیر گیر کا کم سنی ، دادِ شجاعت دے رہی ہے رن میں یوں
اس زباں میں ہے پیام اک اصغرِؑ بے شیر کا اک زبانِ بے زبانی خلق میں مشہور ہے
معرکہ بچّے بھی سر کرتے ہیں داروگیر کا کم سنی بھی آلِؑ احمدؐ کی کبھی بے بس نہیں
کام کرتا ہے تبسم تیزیٔ شمشیر کا پھول سے ہونٹوں سے بھی بنتی ہے شکل ذوالفقار
نام دیتا ہے پتہ اس مدح کی تاثیر کا ہم غلامِ مرتضیٰؑ فانی نہیں جاویدؔ ہیں
سایہ زہراؐ کی دعا کا لیے سر پر نکلا مدحِ عباسؑ کو گھر سے جو سخنور نکلا
ٴٴچاند ہاشم کا مرے دل کے افق پر نکلاٴٴ قلب روشن مرا سورج سے بھی بڑھ کر نکلا
اپنا انعام تو میں گھر سے ہی پا کر نکلا مدحِ عباسؑ ہے خوشنودی زہراؑ کا سبب
کبھی تلوار چلی اور کبھی خنجر نکلا ظلم کے دور میں حیدرؑ کے محبوّں کے لئے
جسم پاکیزہ ہوا خون معطر نکلا مل گئی جونؑ کو خوشبوئے دعائے شبیرؑ
اندھے حافظ کو سبق ایک ہی ازبر نکلا میرے ہر ایک عمل کو ہے یہ کہتا بدعت
گھر عزادار کا جنت سے بھی بڑھ کر نکلا مجلسِ شاہؑ میں زہراؑ کی سواری آئی
کتنا گہر ا مرے اشکوں کا سمندر نکلا ڈوبتے جاتے ہیں اس بحر میں فتووں کے جہاز
عقل عاجز ہوگئی جب آگہی کا در کھلا کیا علیؑ کا مرتبہ ہے راز یہ کس پر کھلا
شاعرانِ خوشنوا کی فکر کا دفتر کھلا ہوگیا اعلانِ بزمِ مدحِ حیدرؑ شہر میں
دل کی آنکھوں کے لئے فردوس کا منظر کھلا مدحِ آلِ مصطفیؐ نے گل کھلائے فکر کے
تب بڑی مشکل سے آخر ہم سے وہ دلبر کھلا جب کہا ہم نے کہ ہم بھی ہیں غلامِ مرتضیٰؑ
عقل حیراں ہے کہ آخر راز یہ کیوں کر کھلا سب تو چپ تھے کس سے سن کر یہ نصیری لے اڑے
وہ تو کہیے برملا جبریلؑ کا شہپر کھلا جارہی تھی کاٹتی نبضِ دو عالم ذوالفقار
جو چھپا جاتے تھے اکثر قولِ پیغمبرؐ کھلا ان کی سچائی کی بھی قائل ہے دنیا العجب
یہ نیا در کیوں کھلا ، کس کے اشارے پر کھلا فاطمہؐ بنتِ اسد کا مرتبہ کعبے سے پوچھ
کوئی چوروں کے لئے رکھتا نہیں زیور کھلا رازِ عرفانِ علیؑ بے شک چھپا لے غیر سے
ہے عطا کے واسطے دِن رات جن کا در کھلا ہم بھکاری جس کے ہیں ، جاویدؔ وہ ہیں اہل بیتؑ
رحمتِ باری برستی ہے مرا گھر دیکھ کر تشنہ لب اصغرؑ کا مجھ کو مدح گستر دیکھ کر
دفترِ عصیاں مرا پھینکا نظر بھر دیکھ کر حشر میں حق نے مجھے مدّاحِ اصغرؑ دیکھ کر
مسکراہٹ کا علم گاڑا ہے پتّھر دیکھ کر پھول نے سنگیں دلوں کو مثلِ خیبر دیکھ کر
مسکرائی تشنگی ، پھر سوئے کوثر دیکھ کر نہر کو گھیرا ہوا لاکھوں کا لشکر دیکھ کر
ذکر شہزادے کا ہو اے اہلِ منبر دیکھ کر سیرتِ اصغرؑ کو قراں سے ملا کر دیکھ کر
کیجیے نقلِ روایت بھی سنبھل کر دیکھ کر فاطمہؐ زہرا کے پیاروں کا ہے مقتل کربلا
کربلا تک آئے تھے سب کچھ سمجھ کر دیکھ کر اصغرِؑ ناداں نہیں تھے اصغرِؑ دانا تھے وہ
مٹھیاں غازی کا کسنا سوئے لشکر دیکھ کر شاہؑ کی نصرت کا جذبہ ، عزمِ فتحِ کربلا
کیوں نہ ہنستے بزدلوں کا وار خود پر دیکھ کر تھے ابوطالبؑ کے وارث حاملِ زورِ علیؑ
ٴٴدنگ ہیں کون و مکاں اصغرؑ کے تیور دیکھ کرٴٴ پیاس بھی چہرے پہ اور نورِ یقیں بھی ضو فشاں
مجھ کو اہلِ بیتؑ کے در کا گداگر دیکھ کر بخش دی جاویدؔ ، خالق نے حیاتِ جاوداں
شبیرؑ کی خاطر جینا ہے شبیرؑ کی خاطر مرنا ہے کونین کی ہر دولت دے کر اس غم کی حفاظت کرنا ہے
زہراؑ کی تمنا پوری ہو یہ جان رہے یا لُٹ جائے یہ جسم رہے یا مٹ جائے مظلوم کا ماتم کرنا ہے
زہرؐا کی دعاہے ماتم یہ ، یہ ماتم کیسے رک جائے
اِس پرچم کی عزت کے لئے غازیؑ نے سہے دل پر بھالے اِس پرچم کی عظمت کے لئے عباسؑ نے بازو دے ڈالے
عباسِؑ علیؑ کا پرچم ہے ، یہ پرچم کیسے جھک جائے اِس پرچم کے مشکیزے سے لپٹے ہیں سکینہؐ کے نالے
زہرؐا کی دعاہے ماتم یہ ، یہ ماتم کیسے رک جائے
ہر موج تڑپتی ہے اب تک ساحل سے جو تو پیا سا پلٹا  سالار حسینؑی کیا کہنا ، معراجِ وفا سرتاجِ وفا
تھا ہوش میں جب تک فکر یہ تھی پیاسی نہ بھتیجی رہ جائے تھا حکمِ حسینؑی جنگ نہ کی ہر وار سہا ہر ظلم سہا
زہرؐا کی دعاہے ماتم یہ ، یہ ماتم کیسے رک جائے
قسمت جو سعادت دے ہم کو یہ جان فدا کردینا ہے جب تک کہ سکت اس جسم میں ہے حق اپنا ادا اکردینا ہے
آئی ہے یہاں اک شہزادیؐ امید کا دامن پھیلائے یا اشک سے یا خونِ دل سے اس دامن کو بھردینا ہے
زہرؐا کی دعاہے ماتم یہ ، یہ ماتم کیسے رک جائے
اور گونج رہی تھی مقتل میں فریاد و فغان اک دکھیا کی وہ وقت ہے اب تک آنکھوں میں جب خوں میں تھا غلطاں ابنِ علیؑ
مظلوم کا ماتم ہوتا رہے زہراؐ کی صدا جب تک آئے سینے سے بہیں خوں کی دھاریں اب ہاتھ نہ رُکنے پائے کبھی
زہرؐا کی دعاہے ماتم یہ ، یہ ماتم کیسے رک جائے
یوں حق کی طرف آجانے کا حاصل ہے ابھی تک اک موقع یہ ماتم ہے ہل من کی صدا ہر اشک ہے جذبہ نصرت کا
شبیرؑ بلاتے ہیں اب تک گر حرؑ ہو کوئی تو آجائے پہچان ضمیر و دل کی صدا اِس ماتم میں شامل ہوجا
زہرؐا کی دعاہے ماتم یہ ، یہ ماتم کیسے رک جائے
سیّد محمد بندہ کاظم جاویدؔ لکھنوی
سپاہِ حرؑ کو جو پانی پلائے دیتے ہیں دعائیں شاہ کو اپنے پرائے دیتے ہیں
سمند شوق میں غازی بڑھائے دیتے ہیں ہر ایک کو تھی یہ جلدی کہ جنگ ہو آغاز
امامؑ بڑھ کے دل اس کا بڑھائے دیتے ہیں چمک رہا ہے ستارہ بھی حرؑ کی قسمت کا
خود اپنی آہ کے شعلے جلائے دیتے ہیں صدائیں آتی ہیں اف اف کی میرے سینے سے
چمن میں جتنے ہیں گل مسکرائے دیتے ہیں یہ کس طرح کی ہوا چل رہی ہے عالم میں
تجھے تو ساغرِ کوثر پلائے دیتے ہیں میں مضطرب ہوں تو کہتے ہیں ساقیِؑ کوثر
کہ بڑھ کے سینہ سناں سے ملائے دیتے ہیں عجب جری و دلاور ہیں شاہؑ کے رفقا
جو راہ چلتے ہیں وہ بھی مٹائے دیتے ہیں بنادیا ہے ہمیں نقشِ پا مقدر نے
چراغِ خانۂ زہرؑا بجھائے دیتے ہیں یہ کربلا میں کیا اہلِ شام نے اندھیر
کہ بے لڑے ہوئے سب کو بھگائے دیتے ہیں نگاہِ حضرتِ عباسؑ سے یہ ظاہر ہے
ہم آج خاک میں ان کو ملائے دیتے ہیں لحد میں لاشۂ اصغرؑ کو رکھ کے بولے شہؑ
یہ کس کے بین کلیجے ہلائے دیتے ہیں عدو بھی کہتے تھے سن سن کے زاریٔ زینبؑ
کدھر چھپے ہوئے بیٹھے ہیں جوہری جاویدؔ
ہم آج تھوڑے سے موتی لٹائے دیتے ہیں
مرزا جدیدؔ لکھنوی
شاہؑ اشک آنکھوں میں بھر بھر کے پیئے جاتے ہیں طفل سب پیاس کے شکوے جو کیئے جاتے ہیں
لطف اکبرؑ مرے جینے کا لیئے جاتے ہیں شاہؑ کہتے تھے غمِ ہجر دئیے جاتے ہیں
آپ کے بیاہ کا ارمان لیئے جاتے ہیں خلق سے کوچ ہے اکبرؑ کو یہ صغراؑ نے لکھا
آپ کا نام شب و روز لیئے جاتے ہیں یا علیؑ ہم پہ بلا آئے کوئی کیا ممکن
بازوئوں کے لئے تعویذ سیئے جاتے ہیں ماں کو ہے دھیان نہ اصغرؑ کو نظر لگ جائے
میرے عصیاں مجھے دوزخ میں لیئے جاتے ہیں دوڑ اے آتش نمرود بجھانے والے
کیوں فرشتے مجھے جنت میں لیئے جاتے ہیں دھیان میں باغِ نجف کے کہیں آئے گا قرار
اس لئے خاکِ شفا ساتھ لیئے جاتے ہیں دے نہ ایذا ہمیں تربت میں مرض عصیاں کا
علی اصغرؑ تمہیں ہم دفن کیئے جاتے ہیں قبر سے کہہ کے اٹھے شاہؑ کچھ اپنی نہیں فکر
دونوں بازو مرے بے کار کیئے جاتے ہیں دے کے عباسؑ کو رخصت یہی کہتے تھے حسینؑ
ہوگا کچھ اس میں نہ پیدا یہ زمیں ہے ناقص
اے جدیدؔ آپ عبث فکر کیئے جاتے ہیں
قلندر بخش جراتؔ
تو آسماں نے ادھر ہی زمیں پہ سر رکھّا سلام اُس پہ کہ جس نے قدم جدھر رکھّا
رضائے حق پہ قدم اپنا بے خطر رکھّا سلام اُس پہ کہ جس نے رہِ مصیبت میں
یزیدیوں نے ہر اک پارۂ جگر رکھّا سلام اُس پہ کہو جس کا تین دن پیاسا
غم و الم نے سدا باد و چشمِ تر رکھّا سلام اُس پہ کہ سکّانِ عرش کو جس کے
علیؑ و فاطمہؐ زہرا کو نوحہ گر رکھّا سلام اُس پہ کہ جنت میں جس کے ماتم نے
گرہ میں نذر کو غنچوں نے جس کی زَر رکھّا سلام اُس پہ جو ہے رنگ و بوئے گلشنِ دیں
ہر اک فرشتے نے پھیلائے اپنا پَر رکھّا ہوا جناں میں خراماں جو وہ تو زیرِ قدم
کہ سَر تنور میں جس شاہِؑ دیں کا دھر رکھّا لگائو گلخنِ دل میں تم اس کی آتشِ غم
اُسی سے نورِ بصر تو طلب کر اے جرأتؔ
نشان جس نے مٹا اپنا نام کر رکھّا
جرّارؔ اکبرآبادی
روزِ محشر ہم بچالیں گے تمہیں آزار سے وعدۂ زہراؑ ہے یہ ایک ایک ماتم دار سے
شہ رگِ حق کٹ نہیں سکتی چھری کی دھار سے بات یہ زینبؐ نے منوائی بھرے دربار سے
دور رہنا چاہیے گرتی ہوئی دیوار سے ہٹ کے تختِ شام سے سمجھا گیا ابن یزید
پھر یہ لکھ اسلام پھیلایا گیا تلوار سے اے موّرخ پہلے حلقِ اصغرؑ بے شیر دیکھ
کوئی پوچھے نغمۂ بیعت کے موسیقار سے بار کیوں ذوقِ سماعت پر ہے ماتم کی صدا
مرگئے کتنے یزید اپنے کئے کی مار سے آج بھی جرّارؔ زندہ ہیں حسینؑ ابن علیؑ
جعفرؔ زیدی
ابوطالبؑ کو تحفہ مل گیا خلّاقِ اکبر کا ولادت خانۂ حق میں شرف ہے خاص حیدرؑ کا
مکانِ لم یلد ہے پھر بھی بچّہ ہے اسی گھر کا نصیری خانۂ خالق سے یہ کہتے ہوئے پلٹے
گواہی بن گیا تاریخ میں خود باب خبیر کا پلٹ کر کون آیا، کون نکلا فاتحِ میداں
مثال اپنی ہے اب تک فیصلہ بازو کبوتر کا کوئی تمثیل کیا ممکن ہو ، دنیا غرقِ حیرت ہے
بھرم چہروں سے ظاہر ہوگیاخندق میں اکثر کا بہت دعوے محبت کے ہوئے بزمِ رسالتؐ میں
دفاعِ احمدِؐ مختار حیدرؑ سے غضنفر کا اُحد پر بھاگنے والو پلٹ کر دیکھ تو لیتے
زباں پر نام آجاتا ہے جب مولائے قنبرؑ کا ہمارے سامنے مشکل کوئی مشکل نہیں رہتی
علیؑ کے چاہنے والوں میں تھا یہ کام ابوذرؑ کا امیرِ شام پر تنقید کتنا کارِ مشکل تھا
ملا اعزازِ مدحت یہ بھی صدقہ ہے اِسی در کا نہ کیوں نازاں ہو اپنے بخت پر جعفرؔ کہ قسمت سے
کہ فیضِ عشقِ علیؑ دستیاب رکھتے ہیں نہ خوف حشر نہ کچھ اضطراب رکھتے ہیں
الگ مقام گلوں میں گلاب رکھتے ہیں علیؑ کے دوست جدا اپنی آب رکھتے ہیں
جو چیز رکھتے ہیں ہم لاجواب رکھتے ہیں غدیرِ خم کی پرانی شراب رکھتے ہیں
وہ اور ہوں گے جو خوفِ عذاب رکھتے ہیں وِلا علیؑ کی گناہوں کو چاٹ دیتی ہے
یہ مال وہ ہے جو ہم بے حساب رکھتے ہیں ہمارے پاس نہیں کچھ سوائے حبِ علیؑ
خدا کے گھر میں قدم بوترابؑ رکھتے ہیں وہ آئیں بنتِ اسدؐ شق ہوئی جدارِ حرم
یہ اشتیاقِ نبیؐ کا جواب رکھتے ہیں نبیؐ کی گود میں آتے ہی مسکرائے علیؑ
کہ ان کو ووست رسالت مآبؐ رکھتے ہیں علیؑ سے بغض مسلماں تو رکھ نہیں سکتا
قدم قدم روشِ انقلاب رکھتے ہیں ہمیں تو ہیں جو ہیں زیدِؑ شہید سے منسوب
نبیؐ کی آلؑ خدا کی کتاب رکھتے ہیں قسم خدا کی بہت خوش نصیب ہیں جعفرؔ
عبادتیں تو کہیں سعیٔ رائیگاں میں نہیں علیؑ کا ذکرِ ولایت اگر اذاں میں نہیں
نظیر فاطمہؐ زہرا کی دو جہاں میں نہیں کسی یقیں میں نہیں ہے کسی گماں میں نہیں
بجز بتولؐ شرف یہ کسی مکاں میں نہیں بغیر اذن فرشتے بھی آ نہیں سکتے
کوئی بھی نسل تعارف میں اپنی ماں سے نہیں بڑا شرف ہے یہ اولادِ فاطمہؐ کے لئے
جو فاطمہؐ سے کدورت رکھے اماں میں نہیں حدیث ہے یہ پیمبرؐ کی امّتی سن لیں
یقین جان کہ تیری جگہ جناں میں نہیں علیؑ سے بغض محمدؐ سے دعویٔ اُلفت
کنیز کا وہ شرف ہے کہ انس و جاں میں نہیں کلام کرتی ہیں فضّہؐ زبانِ قرآں میں
ہو اُن کی مدح مکمل ہنر زباں میں نہیں وہ مالِ مادرِ زہراؐ تھا پل گیا اسلام
کہ دشمنی کی روش بزمِ دوستاں میں نہیں ہم اُس کے دوست ہیں جو اِن کو دوست رکھتا ہے
ہے بزم میں پھیلی ہوئی اشعار کی خوشبو اللہ رے اِس مطلعِ انوار کی خوشبو
اس راہ میںہے میثمِؑ تمّاؑر کی خوشبو ہم دار پہ آکر بھی جو سچ ہوگا کہیں گے
عالم میں محمدؐ کے ہے کردار کی خوشبو انسان کو انساں کی غلامی سے بچایا
اچھی نہیں لگتی ہمیں دربار کی خوشبو ہم اہلِ مودّت کا ٹھکانہ درِ زہراؐ
ہے دامنِ اسلام میں ایثار کی خوشبو اولادِ ابوطالبِؑ ذی جاہ کے دم سے
ہے آج بھی شبیرؑ کے انکار کی خوشبو تھی بیعتِ فاسق کی طلب ابنِ علیؑ سے
درکار زمانے کو ہے تلوار کی خوشبو اب پردۂ غیبت سے خدارا نکل آئو
بہلول جسے سونگھ کے دیوانے ہوئے تھے
جعفرؔ کو عطا ہو اُسی معیار کی خوشبو
جعفرؔ طاہر
اسلام جاوداں ہے تو شبیرؑ جاوداں اسلام اگر جسد ہے تو شبیرؑ روح و جاں
شبیرؑ ہیں بہار تو اسلام بوستاں اسلام اور حسینؑ میں ہے ربط معنوی
اسلام جو حسینؑ کا ایک جذبۂ نہاں جو روحِ کائنات ہے ایسا نظامِ نو
اسلام جو ضمیر کا واحد نگاہ باں اسلام جو حیات کا قانونِ مستقل
اسلام جو حسینؑ کی سیرت کا ہے بیاں اسلام ایک فطرتِ خوددار کا وقار
اظہارِ درد کے لئے جب تک ہے یہ دہاں جب تک دلوں میں جذبۂ عشق حسینؑ ہے
جس کے لئے حسینؑ نے دی کربلا میں جاں قائم رہے وقار حسینیؑ نظام کا
چلتی گئی زبان کے کانٹوں پہ زندگی
بڑھتا رہا حیات کا دریائے بے کراں
جگرؔ مرادآبادی
یہ لالہ و گل یہ صحن و روش ہونے دو جو ویراں ہوتے ہیں
تخریب جنوں کے پردے میں تعمیر گلستاں ہوتے ہیں
 
باطل کی ہو کتنی ہی طاقت ، باطل کی اطاعت کیامعنی؟
ایماں پہ فدا ہوجاتے ہیں، جو صاحبِ ایماں ہوتے ہیں
 
آسودۂ ساحل تو ہے مگر ، شاید یہ تجھے معلوم نہیں
ساحل سے بھی طوفاں اٹھتے ہیں، خاموش بھی طوفاں ہوتے ہیں
 
یہ خون ہے جو مظلوموں کا ضائع تو نہ جائے گا لیکن
کتنے وہ مبارک قطرے ہیں جو صرفِ بہاراں ہوتے ہیں
 
جانبازِ محبت جو ہیں جگرؔ مرنے سے نہیں ڈرتے ہرگز
جب وقتِ شہادت آتا ہے دل سینوں میں رقصاں ہوتے ہیں
میر ابومحمدجلیسؔ   میر انیسؔ کے پوتے ، میر سلیسؔ کے بیٹےٞ
لَو بنا تھا شمع کی ہر ایک پیکاں تیر کا دھوپ سے تھا گرم جسم اتنا شہِؑ دلگیر کا
ہے سوالِ آب تفتہ اَصغرِؑ بے شیر کا حالتِ اصغرؑ دکھا کر شہؑ نے اعدا سے کہا
تھا جواب ایک ایک آنسو نامۂ تحریر کا پڑھ کے خط صغرؐا کا حضرتؑ دیر تک روتے رہے
کم نہ ہوگا غل قیامت تک کبھی زنجیر کا ہے یہ اک بیمارؑ کے شورِ اَسیری کی دلیل
کوئی زخمی تیغ کاہے کوئی زخمی تیر کا ناصرانِ شاہؑ کے لاشے پتہ دےتے ہیں خود
زور دِکھلائوں اگر بازوئے خیبر گیر کا کہتے تھے عباسؑ ٹکڑے ٹکڑے ہو کوفہ کا در
لے رہا ہوں میں قلم سے کام آتش گیر کا لکھ رہا ہوں حال میں سوزِ تپِ سجادؑ کا
مرتضیٰؑ سا رہنما پایا خوشا قسمت جلیسؔ
قبر میں کچھ ڈر ہے رہزن کا نہ دامن گیر کا
جلیلؔ حسن جلیل
بات ایسی ہے کہ ہوتا ہے کلیجا پانی ہائے شبیرؑ نہ پائیں لبِ دریا پانی
دلِ شبیرؑ میں آسان نہیں جا پانی ہاں کرو دوستوں رو رو کے کلیجا پانی
یہ جگہ وہ ہے جہاں بھرتے ہیں دریا پانی آئو فیضِ خلفِ ساقیٔؑ کوثر دیکھو
خاک صحرا میں اُڑے اور ہو دریا پانی مقتضیٰ بھی تھا یہی سبطِؑ نبیؐ کے غم کا
ذبح کرتے ہیں تو دے دیتے ہیں دانا پانی بھوکے پیاسوں کے جو قاتل تھے نہ سمجھے اتنا
ہو کہ بیتاب جو کہتی تھی سکینہؑ پانی ساغرِ دیدۂ عباسؑ چھلک جاتے تھے
دیکھیں لے جائے کہاں اب انہیں دانا پانی کربلا تک تو حرم والوں کو لائے تھے حسینؑ
جس پہ ایک ہاتھ پڑا اُس نے نہ مانگا پانی ایسے تردست تھے شمشیرزنی میں عباسؑ
شام کا ملک اسیروں کو تھا کالا پانی نہ خبر اہلِ وطن کی نہ رہائی کی اُمید
اِن پیالوں میں ہے کوثر کا چھلکتا پانی ڈبڈبائی ہوئی آنکھوں کے میں قربان جلیلؔ
کہ دردانگیز بلبل کی صدا معلوم ہوتی ہے چمن میں آمدِ فصلِ عزا معلوم ہوتی ہے
فغان و نالہ و آہ و بکا معلوم ہوتی ہے وہی دلکش نواسنجی جو کل تک روح افزا تھی
کہ تصویرِ نبیؐ صلِّ علیٰ معلوم ہوتی ہے علی اکبرؑ کی صورت دیکھ کر دشمن بھی کہتے تھے
کہ رن میں آمدِ شیرِؑ خدا معلوم ہوتی ہے چلے ہیں حضرتِ قاسمؑ کچھ اس شانِ جلالت سے
شہادت کی قبا کیا خوشنما معلوم ہوتی ہے فرشتوں میں یہ چرچا تھا کہ جسمِ ابنِ حیدرؑ پر
کہ آبِ تیغ بھی آبِ بقا معلوم ہوتی ہے گلا کٹتا تھا پیاسوں کا تو یہ آواز آتی تھی
غبار آلود جو بادِ صبا معلوم ہوتی ہے غمِ سرور میں شاید خاک اسنے بھی اُڑائی ہے
یہیں صبر و رضا کی انتہا معلوم ہوتی ہے ثباتِ شاہؑ دیکھو اور رہِ کرب و بلا دیکھو
کلامِ حق حدیثِ مصطفیؐ معلوم ہوتی ہے زبانِ شہؑ کے قرباں بات جو منہ سے نکلتی ہے
جلیلؔ آٹھوں پہر خونبار رہتی ہے جو آنکھ اپنی
عزادارِ شہیدِ کربلا معلوم ہوتی ہے
یوسف جمال انصاریؔ
ٹوٹے تو یوں کہ ڈوب گئے اپنی ذات میں ہم صورتِ حباب ہیں بحرِ حیات میں
کیا ڈھونڈتا ہے رہ گذرِ ممکنات میں اے رہ نورد کون ہے تو اور ہے کہاں ہے توٝ
بے خواب راہبر بھی ہے رہزن بھی گھات میں انسانیت کو کرب و بلا سے مفر نہیں
خونِ حسینؑ اب بھی رواں ہے فرات میں مہکا ہوا ہے عشق سے دامانِ زندگی
ہم وہ شہیدِ علم ہیں سعیِ نجات میں اپنی خودی کی تیغ سے خود ہوگئے ہلاک
الجھے ہیں جو تعینِ مرگِ حیات میں وہ رنگِ گل سے نکہتِ گل کو الگ کریں
ہر سانس موجِ خوں میں سفینہ ہے عشق کا
دل ہے مرا کہ چنگ ہے طوفاں کے ہاتھ میں
جمیلؔ مظہری
وہاں بہار آئے کیا جہاں ترا قدم نہ ہو ہوائیں نالہ کش نہ ہوں ، گلوں کی آنکھ نم نہ ہو
نہیں تو کربلا نہ ہو عرب نہ ہو عجم نہ ہو حسینؑ ہی حسینؑ ہے حرم سے تا بہ کربلا
سرِ حسینؑ کی قسم ، وہی ہے سر جو خم نہ ہو وہ دل ہے جس میں عشق ہو ، دلِ حسینؑ کی قسم
نگاہِ دہر میں بھلا حسینؑ محترم نہ ہو نبیؐ کے دل کا چین بھی ، علیؑ کا نورِ عین بھی
شہادتِ حسینؑ پر بھی جس کی آنکھ نم نہ ہو بشر وہ شر ہے سر بسر ، کہے گا کون اسے بشر
خدا کرے کہ دردِ دل تمام عمر کم نہ ہو یہ درد جانِ جاں رہے ، سدا یونہی جواں رہے
یہ آئی عرش سے ندا کہ اے بلاکشِ وفا
غم حسینؑ کے سوا جہاں میں تجھ کو غم نہ ہو